Al-Risala · August 2005 · page

Adventure in altitude

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

مسجد (Excluding Babri Masjid)۔ اس جملہ کی بناء پر کچھ لوگ بھڑک اٹھے اور نرسمہا راؤ کو مسلم دشمن سمجھ لیا، حالاں کہ یہ بالکل غلط تھا۔ اس وقت بابری مسجد کا کیس عدالت میں زیر سماعت تھا، ایسی حالت میں یہ ممکن نہ تھا کہ بابری مسجد کے لیے قانون بنایا جائے۔ چنانچہ قانون میں یہ درج کیا گیا کہ بابری مسجد کے معاملہ میں عدالت جو فیصلہ دے گی اس کو نافذ کرنے کے لیے حکومت پابند ہوگی۔ دستور و قانون سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص کہے گا کہ یہ بالکل درست تھا۔ مگر جذباتی افراد نے معاملہ کو سمجھے بغیر اس کی مخالفت شروع کردی۔ اس بناء پر وہ اس قانونی امکان سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔ ۱۱ مارچ کو عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ مفتاح العلوم کے جلسہ میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ یہاں میں نے طلبہ و اساتذہ کے درمیان ایک تقریر کی۔ میں نے قاری محمد قاسم صاحب انصاری کی تلاوت کردہ آیات کو موضوع بنایا۔

انہوں نے اپنی قرأت میں یہ آیت تلاوت کی تھی”والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس‘‘، غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے۔ میں نے کہا کہ اس قرآنی آیت میں ”الکاظمین الغیظ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، نہ کہ ”الفاقدین الغیظ‘‘ کے الفاظ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے یہاں انسان کی پکڑ اس پر نہیں ہے کہ اس کو غصہ آجائے، بلکہ پکڑ اس بات پر ہے کہ اسے جب غصہ آیا تو اس نے اپنے غصہ پر کنٹرول نہیں کیا۔

دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مدارس میں اس کی ضرورت نہیں کہ وہاں کا نصاب بدلا جائے یا سائنس یا انگریزی پڑھائی جائے۔ میرے نزدیک سیکولر تعلیم اور مذہبی تعلیم دونوں کا نظام الگ الگ ہونا ہی زیادہ صحیح اور مفید ہے۔ پھر میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں مدارس سے بڑے بڑے فائدے حاصل ہورہے ہیں، انہی میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان میں اردو زبان زیادہ تر مدارس ہی کی وجہ سے زندہ ہے۔ اسی طرح ۱۹۷۶ء کی ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کی قرأت و تجوید جو مدارس میں سکھائی جاتی ہے وہ اسلام کی ایک عظیم خدمت ہے۔ واقعہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”سفر نامہ جلد اول صفحہ ۱۷۔ ۱۸‘‘

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page