Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

۱۲ مارچ کی صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے بعد لوگ اس کمرہ میں جمع ہوگئے جہاں میرے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ دیر تک دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ قرآن کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل ترتیب وار درس قرآن کا طریقہ رائج ہوگیا ہے۔ یہ طریقہ بجائے خود درست ہے۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق ، درسِ قرآن کو ترتیب نزولی کے اصول پر چلایا جائے تو وہ زیادہ مفید ہوگا۔ یعنی حالات کے مطابق ، قرآن کے منتخب حصوں کی تشریح و تفسیر۔ تاہم مارکیٹنگ کے اعتبار سے سلسلہ وار درس قرآن ہی زیادہ مفید ہے۔

پھر میں نے سورہ العصر اور سورہ التین کی روشنی میں ایک درس دیا۔ میں نے کہا کہ والْعَصْرِ ان الانسان لفی خسر کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ زمانہ کی قسم، انسان بے شک گھاٹے میں ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، یہاں زمانہ (time) سے مراد انسانی تاریخ ہے۔ یعنی تاریخ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے :

History is a witness that man is in loss.

اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تمام انسانوں کا کیس گھاٹے کا کیس ہے۔ کامیاب انسان صرف وہ ہے جو ایمان اور عمل صالح کا ذخیرہ اپنے لیے جمع کرے۔

ماضی اور حال کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر انسان آخر کار احساسِ خسران میں مرتا ہے۔ کوئی شخص دولت کماتا ہے، کوئی عزت حاصل کرتا ہے، کوئی سیاسی اقتدار پر قبضہ کرتا ہے، کوئی لیڈر بن کر ابھرتا ہے، لیکن ہر شخص اپنی مطلوب منزل پر پہنچنے سے پہلے مر جاتا ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں خوشیوں کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے۔ وہ اس کو پانے کے لیے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ مگر ہر آدمی کا خاتمہ آخر کار اس احساس کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مطلوب دنیا کو نہ پا سکا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی خواہشیں لامحدود ہیں۔ مگر موجودہ دنیا ایک محدود دنیا ہے۔ اس محدود اور غیر معیاری دنیا میں لامحدود قسم کی معیاری خوشی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہی فرق خسران کا اصل سبب ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page