Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

مطلوب دنیا موت کے بعد کے دور حیات میں رکھ دی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی تیاری کرے۔ تا کہ جس مطلوب زندگی کو وہ موت سے پہلے نہ پاسکا اس کو وہ موت کے بعد کے عالم میں پالے۔

ایک صاحب نے ۱۸ صفحات کا ایک پمفلٹ دکھایا۔ اس کا نام تھا سچائی کی دریافت: (Exploring the Truth)۔ یہ پمفلٹ ایک عرب ملک کی طرف سے سیاحوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے چھاپا گیا تھا۔ ایک صاحب نے یہ پمفلٹ پڑھ کر سنایا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں غیرمسلموں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے اس قسم کے بہت سے پمفلٹ چھاپے گئے ہیں مگر یہ کتابیں آج کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں ۔ ایسی کتابیں کچھ روایتی مسلمانوں کو پسند آسکتی ہیں مگر جدید ذہن کی نسبت سے وہ بالکل بے فائدہ ہیں۔

اس کتاب کا پہلا عنوان تھا مسلمان ہونے کے فوائد (Benefits of Becoming a Muslim)۔ یہ دعوت کی زبان نہیں۔ یہ کتاب غیر ملکی سیاحوں میں تقسیم کرنے کے لیے چھاپی گئی ہے۔ ان غیر ملکی سیاحوں کا یہ مسئلہ نہیں کہ وہ مسلم گروہ میں شامل ہونے کے فوائد جاننا چاہتے ہیں۔ البتہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کے متلاشی ہیں۔ وہ روحانیت کی تلاش میں ہیں۔ اسی قسم کی باتیں ان کو اپیل کرسکتی ہیں۔ ان لوگوں کے لیے اس طرز خطاب میں کوئی کشش نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو تم کو یہ فوائد حاصل ہوں گے۔

پوری کتاب اس قسم کے غیر فطری انداز میں لکھی گئی ہے۔ موجودہ صورت میں وہ صرف کچھ روایتی مسلمانوں کو پسند آسکتی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ غیر مسلموں کے اعتبار سے کوئی قابل مطالعہ کتاب نہیں۔

یہ کتاب بظاہر اسلام کی عمومی دعوت کے لیے لکھی گئی تھی۔ مگر وہ شروع سے آخر تک صرف مسلم ذہن کی نمائندگی کر رہی تھی۔ اس کو پڑھ کر ایک پیدائشی مسلمان تو خوش ہوسکتا تھا مگر عام انسان کے لیے اس میں کوئی اپیل نہ تھی۔ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم اہل قلم صرف ایسی کتابیں لکھ سکتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page