History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
جو مسلم ذہن کو اپیل کریں۔ اپنے قومی ذہن کی بنا پر وہ اس کے لیے نااہل بن چکے ہیں کہ وہ ایسی کتاب تیار کریں جو عام انسان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔
۱۲ مارچ کو بھوپال کی یونیورسٹی میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس خطاب کا عنوان یہ تھا: امن عالم میں بھارت کا رول ۔ یونیورسٹی کے ہال میں طلبہ اور اساتذہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دوسرے کئی حضرات نے شرکت کی۔
میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امن عالم کے معاملہ میں انڈیا کا رول بہت اہم ہے۔ مہاتما گاندھی انڈیا کے مشہور ترین لیڈر تھے۔ ۱۹۱۹ میں انہوں نے انڈیا کی جدوجہد آزادی کی قیادت سنبھالی ۔ اس سے پہلے انڈیا اور ساری دنیا میں لوگوں کو سیاسی جدوجہد کا ایک ہی طریقہ معلوم تھا اور وہ پرتشدد جدوجہد تھا۔ مہاتما گاندھی نے انڈیا کی جدوجہد آزادی کو نئی شکل دی۔ انہوں نے اس کو مکمل طور پر پرامن طریق کار کی بنیاد پر قائم کیا۔ انڈیا کے تمام لیڈروں، بشمول مسلم لیڈروں نے، مہاتما گاندھی کا ساتھ دیا۔ یہ مہم کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو انڈیا مزید خون بہائے بغیر آزاد ہوگیا۔
انڈیا میں پرامن طریق کار کے اس کامیاب تجربہ کا اثر عالمی سیاست پر پڑا۔ مختلف ملکوں کے لیڈروں نے اس کو اختیار کر لیا ۔ مثلاً ساؤتھ افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا، امریکہ کے سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھر کنگ، وغیرہ۔ میں نے مزید بتایا کہ پرامن طریق کار کا یہ اصول اسلام میں بہت پہلے بتایا جا چکا تھا۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ان اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم)۔ یعنی اللہ رفق پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ عنف پر نہیں دیتا۔ God grants to non-violence what he does not grant to violence. ۱۲ مارچ کی شام کو دو قسطوں میں طویل نشست ہوئی۔ اس نشست کا عنوان یہ تھا: تحریک الرسالہ منزل بہ منزل۔ اس نشست میں میں نے تفصیل کے ساتھ الرسالہ مشن کے ماضی اور حال کو بیان کیا۔ اس پوری تقریر کی باقاعدہ طور پر آڈیو ریکارڈنگ ہوئی تا کہ اس کے کیسٹ تیار کیے جاسکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues