History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
میں نے اس تفصیلی تقریر میں جو کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ الرسالہ مشن میری زندگی سے مکمل طور پر جڑا ہوا ہے ۔ اس لیے اس کی وضاحت کے لیے مجھے کچھ اپنے بارے میں بتانا ہوگا۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک الرسالہ مشن ۱۹۳۸ سے شروع ہوتا ہے۔ اس وقت میرے گھر کا جو ماحول تھا اُس کے لحاظ سے مجھے انگریزی تعلیم کی طرف جانا چاہیے تھا۔ مگر میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں (وفات ۱۹۴۸) نے اصرار کر کے میرا داخلہ عربی مدرسہ میں کرایا۔ اُنہوں نے شروع سے آخر تک تمام اخراجات کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ میں ایک عربی درسگاہ میں تعلیم حاصل کروں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عربی درسگاہ میں تعلیم کے بغیر میرے لیے یہ ناممکن تھا کہ میں الرسالہ مشن جیسی دینی تحریک چلا سکوں۔ اس معاملہ کو میں نے مدرسہ کی کئی مثالوں سے واضح کیا۔ مدرسہ کے بارہ میں مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب، دین وشریعت، باب دینی مدارس۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما تقریباً سب کے سب کسی وقتی ردعمل کے تحت ابھرے ہیں۔ مگر مدرسہ کے تحت میری تعلیم کا یہ نتیجہ ہوا کہ میری سوچ حالات کے ردعمل کے زیر اثر نہیں بنی بلکہ خود مذہب اسلام کی مثبت تعلیم کے تحت بنی۔ اُس زمانہ کی تحریکوں میں سے کسی بھی تحریک سے میں متاثر نہیں ہوسکا۔ میرا ذہن تمام تر قرآن اور حدیث اور سیرت کی روشنی میں بنتا رہا۔
میں نے کہا کہ اپنی پچھلی زندگی میں میں کئی مسلم جماعتوں سے محدود مدت کے لیے وابستہ رہا ہوں ۔ مگر میری یہ وابستگی تنظیمی اعتبار سے تھی، وہ فکری یا نظریاتی اعتبار سے نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں ایک پیدائشی داعی ہوں۔ آج میری جو سوچ ہے، میری وہی سوچ ابتدائی دور سے میرے اندر موجود رہی ہے۔ مثلاً میں ۱۹۴۸ میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوا۔ مگر یہ وابستگی زیادہ ترتنظیمی وابستگی تھی۔ میرا فکر اُس وقت بھی وہی تھا جو بعد کو الرسالہ کے صفحات میں نمایاں ہوا۔
اس کا ایک ثبوت میری کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں جو مضامین ہیں وہ سب کے سب اُس زمانہ میں لکھے گئے اور شائع ہوئے جب کہ میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھا۔ کوئی بھی شخص جو اس کتاب کو پڑھے وہ پائے گا کہ جو ذہن آج الرسالہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues