فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۱
اگر صحیح تقابل کیا جائے تو آج کے مسلمانوں کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ اپنے پھڑے پن کو دور کرنے کی کوشش کریں گے نہ کہ مفروضہ طور پر اپنے کو آگے سمجھ کر اس پر بے بنیاد فخر کرتے رہیں۔ کارمونا (Carmona) اسپین کا ایک قدیم شہر ہے۔ ۱۷ دسمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء یہاں لے جائے گئے اور یہاں کے میئر کی طرف سے انہیں الوداعی خطاب کیا گیا۔ یہاں قدیم زمانہ کا ایک بہت بڑا قلعہ ہے۔ یہ قلعہ مسلم عہد میں بنا تھا۔ اس قلعہ کے اندر الوداعی تقریبات انجام پائیں۔ اس قلعہ کو از سر نو آراستہ کر کے اس کو شاندار بنا دیا گیا ہے۔
۱۳۷۱ء میں موسیٰ بن نصیر نے کارمونا کو فتح کیا۔ اس کے بعد سے وہ مسلم اندلس کا ایک حصہ بن گیا۔ یہاں آباد ہونے والے عرب اور بربر نے اس کا نام کارمونا رکھا۔ کارمونا کے میئر کی طرف سے ہمیں جو کبیں اور پمفلیٹ دئے گئے ان میں سے ایک میں یہ لکھا ہوا تھا۔ اس فتح کے بعد شہر کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ فاتح اور مفتوح امن کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے۔ یہاں تک کہ اکثریت نے اسلام کے کلچر کو اختیار کر لیا:
Thus began a new golden age for the city which became a cultural crossroad where the Arabs and Berber conquerors lived peacefully beside the conquered Hispano-Visigothic population untill the majority finally embraced the culture of Islam. اشبیلیہ کی کانفرنس (۱۴ تا ۱۷ دسمبر ۲۰۰۳) کے خاتمہ پر ایک ڈکلیریشن جاری کیا گیا۔ اس ڈکلیریشن کے پانچ پوائنٹ تھے۔ اس میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پانچ بڑے عالمی مذاہب کے نمائندے جو اشبیلیہ میں جمع ہوئے تھے وہ مشترک طور پر یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہر مذہب کے ذمہ دار ایسے اقدامات کریں جو مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والا ہو۔
یہ ڈکلیریشن بجائے خود بلاشبہ اچھے جذبات کا اظہار تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے سینکڑوں ڈکلیریشن جاری کیے گئے مگر مذاہب کے درمیان مطلوب فضا اب تک قائم نہ ہوسکی۔ میرے تجربہ کے مطابق، اس مقصد کے لیے کانفرنس کے اجتماعی خطاب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ افراد کے اندر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues