Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

اختلافى بحثوں کا مجموعہ ہے۔ کتبِ عقائد بھی اختلافات سے خالی نہیں۔ ایسی حالت میں ایک طالبِ علم کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ اسلام حقیقت میں کیا ہے۔

میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات بطورِ واقعہ ایک حد تک درست ہے۔ مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں، یہ کوئی نقص کی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تقلیدی اسلام مطلوب نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو وہ انسان مطلوب ہے جو اسلام کو ایک ڈسکوری کے طور پر دریافت کرے۔ اس کو قرآن میں معرفتِ حق (المائدہ ۸۳) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ وہ ہے جو کسی کو معرفت کی سطح پر ملے، نہ کہ تقلید کی سطح پر۔

اسلام کی موجودہ صورت ہی کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے اندر غور وفکر کا عمل ابھرے۔ وہ گہرے مطالعہ اور تجزیہ کے مراحل سے دوچار ہو۔ وہ ابہام کی وادیوں سے گزرے۔ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی تلاش کو یافت بنائے۔ وہ شک کے پردوں کو پھاڑ کر یقین کا مقام حاصل کرے۔ وہ اپنی بصیرت کو اس حد تک بیدار کرے کہ وہ نہ دکھائی دینے والے عالم کو دیکھنے لگے۔ وہ خدا کا اس طرح پرستار بن جائے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ وہ افکار کے جنگل میں روشنی کے مینار کو پالے۔ اسی کا نام عارفانہ ایمان ہے، اور خدا کو عارفانہ ایمان مطلوب ہے، نہ کہ مقلدانہ ایمان۔

میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں ارشاد ہوا ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اُٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (آل عمران ۱۹۰۔ ۱۹۱)۔

اس قرآنی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی غور وفکر کے ذریعہ سچائی تک پہنچتا ہے۔ اگر سچائی کو پانے کے لیے غور وفکر کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن کو ایک مینول (manual) کے روپ میں اتارا جاتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page