Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

اس میں ریاضیات کی زبان میں کچھ قانونی احکام ہوتے آدمی کسی ذہنی کاوش کے بغیر سادہ طور پر صرف اس کو پڑھ کر جان لیتا۔

مگر اس قسم کا رسمیاتی ایمان خدا کو مطلوب ہی نہیں۔ ایسا ایمان کسی روبوٹ جیسی مخلوق کا ہو سکتا ہے۔ مگر وہ انسان جیسی مخلوق کے لیے نہیں ہو سکتا۔ انسان ایک زندہ اور صاحب فکر ہستی ہے۔ ایسے انسان سے یہی مطلوب ہے کہ وہ اپنی فکری صلاحیت کو متحرک کر کے حقیقت کو پائے۔ اس طرح کی تلاش کے بعد جو حقیقت آدمی کو ملے وہ اس کی پوری ہستی میں شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ مینول یا آداب (etiquette) جیسا ایمان آدمی کے وجود کا صرف ایک خارجی ضمیمہ ہوتا ہے۔ ایسا بے روح ضمیمہ خدا کو مطلوب نہیں۔ ۱۲ مارچ کو ایک خصوصی پروگرام تھا۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر کی دعوت پر میں اُن کی سرکاری رہائش گاہ پر گیا۔ میرے ساتھ پندرہ افراد تھے۔ تعداد کو محدود رکھنا تھا اس لیے کئی ساتھی اس میں نہ جاسکے۔ اُن میں سے دو کے نام یہ ہیں: سنتھی مہوتراہ اور منجو ورمانی۔ جب جب میں چیف منسٹر کی رہائش گاہ سے واپس آیا تو معلوم ہوا کہ دونوں خواتین بہت غم زدہ ہیں اور اس محرومی پر رو رہی ہیں۔ میں نے دونوں کو بلایا اور کہا کہ آپ کا یہ منفی تاثر ہمارے مشن کی اسپرٹ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارا مشن یہ ہے کہ ہر منفی تجربہ کو مثبت سوچ میں تبدیل کیا جائے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنی سوچ کو بدلیے۔ اس معاملہ میں آپ اس طرح سوچئے کہ اس موقع پر دوسروں کو اگر شرکت (participation) کا موقع ملا تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ قربانی (sacrifice) کا ثبوت دے کر زیادہ بڑے انعام کے مستحق بن سکیں۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور دونوں خواتین محرومی کے احساس کو بھلا کر یا فت کے احساس سے خوش ہوگئیں۔

سوال و جواب

بھوپال کے اجتماع کے موقع پر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی۔ ان ملاقاتوں کے درمیان لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کیے۔ اس سوال و جواب کی مختصر روداد یہاں نقل کی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page