Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

۱۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور کے مسلم علماء نے جو باتیں کہی ہیں، ان کی ایک قسم وہ ہے جو نص قطعی پر مبنی ہو۔ کوئی عالم جب ایک ایسی بات کہے جو قرآن و حدیث کے ثابت شدہ حوالوں پر مبنی ہو تو ایسی رائے پر کسی کو تنقید کا حق نہیں۔ مثلاً ایک عالم یہ کہتا ہے کہ نماز اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے تو اس پر کوئی شخص تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ کیوں کہ یہ رائے ایک معلوم نص پر مبنی ہے۔

رائے کی دوسری قسم وہ ہے جو قرآن و حدیث پر اضافہ کے ہم معنی ہو۔ مثلاً دار الكفر ، دار الحرب دار الاسلام کی اصطلاحیں مقرر کرنا۔ ایسی رائے شرعی اصطلاح کے مطابق ایک اجتہاد ہے۔ اجتہاد کے بارے میں شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ مجتہد کا اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی (المجتهد يخطئ ويصيب) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو رائے اجتہادی نوعیت رکھتی ہو اس کے بارے میں ہر ایک کو حق ہے کہ وہ اس کو جانچ کر دیکھے کہ وہ عالم کا صحیح اجتہاد ہے یا غلط اجتہاد۔ گویا جہاں اجتہاد آيا وہاں اس سے اختلاف کرنا ممکن ہوگیا۔ ایسی حالت میں کسی عالم کی اجتہادی رائے پر علمی تنقید کرنا یقینی طور پر جائز ہے۔ جو لوگ ایسی تنقید کو بُرا سمجھیں وہ خود شرعی اعتبار سے ایک غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

۲۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں اسلامی ریاست کے قیام کا مخالف نہیں ہوں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ریاست سے پہلے ہمیشہ افراد اور ریاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ دراصل افراد ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو قائم کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست کاغذ سے نکل کر زمین پر قائم نہیں ہوتی۔

آج بھی دنیا میں مسلمانوں کی ۵۷ ریاستیں ہیں۔ ان میں وہ ریاستیں بھی موجود ہیں جو اسلامی ریاست کے نام ہی پر قائم کی گئیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ان میں سے کوئی بھی ریاست حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست نہیں۔ حتیٰ کہ ان میں سے کسی ریاست کو کامیاب قومی ریاست بھی نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ سنگاپور یا جاپان کو کامیاب قومی ریاست کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page