History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
اسلامی ریاست بلا شبہہ ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے فکری عمل کے ذریعہ اسلامی افراد تیار کیے جائیں۔ اس کے بعد غیر سیاسی تحریک کے ذریعہ اسلامی معاشرہ بنایا جائے۔ اس کے بعد وہ وقت آئے گا جب کہ اسلامی ریاست کسی زمینی خطہ میں قائم ہو۔ اسلامی ریاست کے نام پر جنگجو یانہ تقریریں کرنا یا قائم شدہ حکومتوں کے خلاف سیاسی ہنگامہ کھڑے کرنا بلا شبہہ ایک مجرمانہ فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی اسلامی ریاست کی طرف کوئی اقدام نہیں۔
۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بنا تو وہاں کے ایک مسلم رہنما نے کہا تھا کہ : پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس مفروضہ کی بنیاد پر پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ مگر آخر میں یہ معلوم ہوا کہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ نہیں ہوا تھا بلکہ وہ صرف ایک بگڑی ہوئی مسلم قوم کے نام الاٹ ہوا تھا۔ یہ تلخ تجربہ کافی ہے کہ اب دوبارہ اس نام نہاد اسلامی سیاست کو نہ دہرایا جائے۔
۳۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کو ہر قسم کے اعلی مواقع حاصل ہیں۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق ، یہاں شاید کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جو اس کو ایک نعمت سمجھے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد سے اب تک مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف بے بنیاد شکایتوں کا دفتر کھولے ہوئے ہیں ۔ یہ بلاشبہہ ناشکری کا ایک واقعہ ہے۔ بدقسمتی سے ناشکری کے اس ناروا فعل میں مسلمانوں کے مذہبی اور سیکولر دونوں قسم کے لوگ مبتلا ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے ایک مسلم اسپیکر نے ملی موضوعات پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے آخر میں ایک ہندو نے سوال کیا کہ آپ لوگ کیوں ہم کو کافر کہتے ہیں، حالاں کہ کافر ایک ڈیروگیٹری (derogatory) لفظ ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم مقرر نے کہا کہ ہمارے نزدیک جو شخص مسلم نہیں وہ کافر ہے۔ کافر کا لفظ نان مسلم کے ہم معنی ہے۔ آپ اسلام قبول کر کے مسلم بن جائیں تو ہم آپ کو کافر نہیں کہیں گے۔
یہ بلاشبہہ ایک غلط جواب ہے۔ اس کی غلطی اس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں اگر کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues