Al-Risala · January 2005 · page 2

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۲

مطلوب ذہن بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہ مقصد حقیقتاً افراد کی ذہن سازی کے ذریعہ حاصل ہوگا، نہ کہ اجتماعی خطابات سے۔

۱۸ دسمبر کی شام کو اشبیلیہ سے واپسی کا سفر ہوا۔ اشبیلیہ ایئر پورٹ سے آئبیرین ایئر لائنز کے ذریعہ ہم لوگ بارسلونا پہنچے۔ یہ سفر ایک چھوٹے جہاز کے ذریعہ طے ہوا۔ اس کے مسافر تقریباً ۹۹ فیصد یورپی لوگ تھے۔

ہماری پہلی منزل بارسلونا تھی۔ بارسلونا میں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد ہم کو آگے جانا تھا۔ بارسلونا کا ایر پورٹ یورپی انداز کا ایک خوبصورت ایر پورٹ تھا۔ وہ نہایت صاف ستھرا اور منظم دکھائی دیا۔ یہاں کے لوگ انگریزی زبان کم اور اسپینی زبان زیادہ جانتے تھے۔ کسی مرحلہ پر بھی ایر پورٹ پر ہم سے کوئی پو چھ گچھ نہیں کی گئی۔ ایر پورٹ کی دیواروں میں لگے ہوئے بڑے بڑے شیشے کے باہر شہر بارسلونا کا ایک منظر دکھائی دے رہا تھا۔ اس قسم کے بڑے بڑے شیشے یورپ کے ایر پورٹوں میں عام ہیں۔ مگر انڈیا کے ایر پورٹوں پر ایسا بہت کم نظر آتا ہے۔

بارسلونا میڈیٹیرینین سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔ وہ ایک تجارتی سنٹر ہے اور اسپین کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ یہاں کی قدیم تاریخی عمارتیں سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ بارسلونا ایک قدیم شہر ہے۔ وہ مختلف سلطنتوں کے تحت رہا ہے۔ تیسری صدی کے آخر میں اس کی پہلی شہری دیوار بنائی گئی۔ ۷۱۷ء میں بارسلونا مسلم سلطنت کے تحت آیا۔ ۸۰۱ میں شہنشاہ لوئی اول نے عربوں کو یہاں سے نکال دیا اور اس شہر کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔

Barcelona fell, around 717, under the sway of the Islamic world. In 801 the Carolingian emperor Louis I the Pious expelled the Arabs and added the city to his domains. (Vol. 2/720)

سید رشید رضا مشہور عرب عالم ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ اور بھی کئی زبانیں جانتے تھے۔ وہ فرانسیسی زبان بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ سید رشید رضا نے تقریباً ۷۰ سال پہلے ایک سلسلہ مضامین اپنے مجلہ المنار میں شائع کیا تھا جو بعد کو کتاب کی صورت میں چھپا۔ اس کتاب کا نام یہ تھا: لماذا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page