Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالاں کہ وحدتِ وجود ایک منحرف عقیدہ ہے نہ کہ توحید کا پیغمبرانہ نظریہ۔ ۱۰۔ اس مسئلہ کمی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ الرسالہ مشن اسی کی کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت درجنوں کی تعداد میں جو کتابیں اردو، عربی، انگریزی، وغیرہ زبانوں میں چھاپی گئی ہیں وہ دراصل توحید کے نظریہ کو عصری اسلوب اور عصری دلائل کی صورت میں پیش کرنا ہے تا کہ توحید کی صداقت کو از سر نو وقت کے معیارِ ذہنی پر مدلل کیا جا سکے، اور اس کو وقت کے انسان کے لیے قابل فہم بنایا جا سکے۔

ایک صاحب جو بھوپال کے اجتماع میں شریک ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں الرساله میں آپ کے سفر نامے پڑھتا تھا، مگر مجھے ابھی تک ان سفر ناموں کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ آپ کے بھوپال کے سفر میں شریک ہو کر میں نے یہ جانا کہ آپ کا سفر عام سفروں سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ اس میں اتنے زیادہ فائدے ہیں جو کسی سفر نامہ میں نہیں آسکتے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے ہر سفر میں شرکت کروں تا کہ آپ کے سفروں سے پورا پورا فائدہ حاصل کر سکوں۔ میں نے کہا کہ عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ اس کے بجائے آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کریں کہ سطور کے ساتھ آپ بین السطور کو پڑھ سکیں۔ اگر آپ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کر لیں تو انشاء اللہ ہر سفر نامہ کو پڑھنے سے آپ کو وہی فائدہ ہو گا جو بھوپال کے سفر میں شرکت کی وجہ سے آپ کو حاصل ہوا ہے۔

۱۲ مارچ کی شام کو نمازِ عشاء کے بعد میری رہائش گاہ پر کئی ہندو لیڈر اور جرنلسٹ آگئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو مقامی طور پر کٹر وادی (hardliners) کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے جب گفتگو شروع کی تو آغاز میں اُن کے لہجے میں کسی قدر تلخی تھی۔ مگر جب میں نے گفتگو شروع کی تو جلد ہی اُن کی تلخی ختم ہوگئی اور بالکل معتدل ماحول میں ساری گفتگو ہوتی رہی۔ آخر میں وہ لوگ اس طرح رخصت ہوئے کہ لوگوں کے بیان کے مطابق، ان کی آنکھوں میں خوشی اور اطمینان کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ گفتگو کے دوران ایک بنیادی بات میں نے یہ کہی کہ آپ لوگوں کی ساری غلط فہمی کا سبب یہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page