Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

ہے کہ آپ مسلمان اور اسلام کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ آپ مسلمانوں کے عمل کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کہ وہی اسلام ہو۔ حالاں کہ دونوں ایک دو سو سے بالکل الگ ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو یہ جاننا ہو کہ گیتا کی تعلیم کیا ہے تو اس کے لیے آپ گیتا کو پڑھیں گے۔ آپ ایسا نہیں کریں گے کہ ہندوؤں کو دیکھ کر یہ رائے بنا لیں کہ اسی کا نام گیتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک کا ایک دستور ہے۔ یہاں بھی آپ ایسا نہیں کریں گے کہ ملک کے لوگوں کو دیکھیں اور یہ مان لیں کہ اسی کا نام دستور ہے۔ میں نے کہا کہ اسی طرح آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مسلمان جو کچھ کریں اُسی کو آپ اسلام کی تعلیم سمجھ لیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ آپ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھیں نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی روشنی میں :

You have to differentiate between Islam and Muslims. You have to judge Muslims in the light of Islamic teachings and not vice versa. ۱۳ مارچ کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد حسبِ معمول بہت سے لوگ میری رہائش گاہ پر آ گئے۔ یہاں دیر تک مختلف قسم کے دینی اور ملی موضوعات پر بات ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر غیرمسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ ابھی تو خود مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوئی۔ مسلمانوں کے اندر بہت زیادہ خرابیاں موجود ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کریں اور اس کے بعد غیرمسلموں میں اسلامی دعوت پہنچانے کی کوشش کریں۔

میں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس طرح کی بات کرتے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے اس مسئلہ پر گہرائی کے ساتھ غور نہیں کیا۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے دو سو سال کے درمیان مسلمانوں کے اندر دوسرے سے بھی زیادہ تحریکیں اُٹھی ہیں۔ یہ تمام کی تمام تحریکیں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اُٹھائی گئیں۔ اس پوری مدت میں کوئی بھی ایسی قابلِ ذکر تحریک نہیں جو حقیقی معنوں میں غیرمسلموں میں دعوتِ اسلام کے لیے اُٹھائی گئی ہو۔ غالباً ہمارا مشن پہلا مشن ہے جو غیرمسلموں کے درمیان باقاعدہ طور پر اسلام کی دعوت پہنچانے کا کام کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page