Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

مگر مختلف گروہوں کی دوسوسالہ کوشش کے باوجود مسلمانوں کی مطلوب اصلاح نہ ہوسکی۔ ایسی حالت میں سوچنے کی اصل بات وہ نہیں ہے جو آپ فرمارہے ہیں بلکہ سوچنے کی اصل بات یہ ہے کہ غیر معمولی کوشش کے باوجود مسلمانوں کی اصلاح کیوں نہ ہوسکی۔ گویا کہ اصل مسئلہ مسلمانوں کی اصلاح کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کا نتیجہ نہ ملنے کا ہے۔ اصل یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق، موجودہ مسلمانوں کی حیثیت ایک زوال یافتہ قوم کی ہوچکی ہے۔ جب کوئی قوم زوال کے درجہ میں پہنچ جائے تو صرف داخلی کوشش اس کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ پرانے خون (old blood) میں نیا خون (new blood) داخل کیا جائے۔ یعنی تبلیغ و دعوت کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے افراد بڑی تعداد میں شامل کیے جائیں۔ موجودہ مسلمانوں کو دوبارہ ایک زندہ قوم بنانے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ بند پانی میں خوشبو ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بند پانی میں جاری پانی کا دھاراداخل کردیجئے، اس کے بعد بند پانی اپنے آپ سیلاب کی صورت اختیار کرلے گا۔

بھوپال میں ملّا رموزی سنسکرتی بھون کے نام سے ایک بڑا ادارہ قائم ہے۔ ۱۳ مارچ کو ۱۱ بجے دن میں الرسالہ اکیڈمی کے زیر اہتمام اس کے وسیع ہال میں ایک پبلک جلسہ ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ اس میں خطاب کا موضوع یہ تھا: کثیر المذاہب معاشرہ، مسائل اور حل۔

اس موضوع پر میں نے اسلام کی روشنی میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دنیا تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ اس اصول کا تعلق جس طرح دوسری چیزوں سے ہے اُسی طرح اس کا تعلق مذہب سے بھی ہے۔ لوگ پیدائشی طور پر مختلف ذوق کے ہوتے ہیں۔ اس لیے فطری طور پر ہر سماج میں مختلف مذاہب موجود رہیں گے۔ مذاہب کے اس تنوع کو ہمیں اسی مثبت ذہن کے تحت لینا چاہیے جس کا اظہار ذوق دہلوی نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کیا ہے:

گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page