Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

میں نے کہا کہ مذاہب کے تنوع کو ختم کرنے کی کوشش جب بھی کی گئی وہ ناکام ہوئی۔ مثال کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا میں امریکی بنانے (Americanisation) کی تحریک شروع کی گئی ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ امریکی معاشرہ میں مذہب اور کلچر کے فرق کو ختم کر کے یکساں سماج بنایا جائے ۔ مگر یہ تحریک مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ امریکا میں ہر مذہب کو قبول کر لیا گیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہاں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہر مذہب کو یکساں طور پر آزادی دی جاتی ہے ۔ ان کا نظریہ ہے کہ کسی مذہب کے لوگ اپنی مذہبی روایات سے جڑ کر زیادہ اچھا کام کرتے ہیں۔ اگر ان کو ان کی مذہبی روایات سے اکھاڑ دیا جائے تو وہ سماج کے زیادہ بہتر کارکن نہیںبنتے۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے بعد کناڈا میں یونی کلچرزم کی تحریک چلائی گئی۔ مگر آخر کار وہ ناکام ہوئی اور اس کے بجائے ملٹی کلچرزم کے اصول کو وہاں باقاعدہ طور پر اختیار کر لیا گیا۔ یہ ایک تفصیلی تقریر تھی ۔ میں نے اس تقریر میں اسلامی تعلیمات کو بیان کیا۔ لوگوں نے بہت دلچسپی کے ساتھ پوری تقریر کو سنا ۔ پروگرام کے خاتمہ پر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو خاتون مز شکن تلا نے کہا___ اگر اسلام وہی ہے جو مولا نا صاحب نے اپنی اسپیچ میںبتایا ہے تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں: If it is Islam then where is the problem. ۱۳ مارچ کی شام کو خواتین کا ایک اجتماع کیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے پروگرام میں یہ عام رواج ہو گیا ہے کہ خواتین کا اجتماع الگ سے کیا جاتا ہے۔ مگر مجھ کو یہ طریقہ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ میرے نزدیک مرد اور عورت دونوں کا اجتماع ایک ساتھ ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ اسلام کی تعلیمات صنفی فرق پر مبنی نہیں ہیں ۔ دونوں ہی صنفوں کے لیے اسلام کی تعلیم یکساں ہے ۔ جزئی نوعیت کے بعض مسائل ضرور الگ ہیں مگر یہ مسائل انتہائی جزئی ہیں ۔ ورنہ جہاں تک اسلام کی اصل دعوت کا تعلق ہے، وہ دونوں صنفوں کے لیے یکساں ہے۔

ایک بات میں نے یہ کہی کہ آج کل خاندانی زندگی کا بگاڑ عام ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب صرف بے شعوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ عورت جب اپنے میکے میں ہوتی ہے تو وہ خونی رشتہ داروں کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page