فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۳
تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے اور ان کے سوادوسرے کیوں آگے ہو گئے)۔
اس کتاب میں مصنف نے قدیم مسلمانوں کی شجاعت کے کئی واقعات پر جوش طور پر بیان کئے بیس۔ ماضی کے ان واقعات کو بیان کر کے موجودہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ وہ بھی اپنے اسلاف کی اس بہادرانہ تاریخ کو دہرائیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اسپین کے شہر بارسلونا کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا:
”افسوس ہے کہ ہم وہ زمانہ بھول گئے ہیں جب کہ محض ہیں مسلمان بارسلونا سے فرانس کے جنوب میں فراکسیمہ کو آئے اور پہاڑ پر قبضہ کر کے اور ایک قلعہ بنا کر رہنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ اُن کی تعداد بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ وہ ایک سو ہو گئے۔ تب انہوں نے ایک باقاعدہ حکومت قائم کی، اور فرانس کے جنوبی حصہ کے علاوہ اٹلی کے شمالی حصہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں کی تعداد صرف ایک سو تھی۔ مگر اس حال میں بھی گردونواح کے بادشاہ اُن کی دوستی کے طلب گار تھے۔ کوہ الپ کی چوٹی اور فرانس اور اٹلی کے وسطی پہاڑوں کی شاہراہیں ان کے قبضہ میں تھیں اور ان راستوں سے جس قدر بھی قافلے گزرتے تھے، وہ اُن سب سے ٹیکس وصول کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی جماعت نے یہاں تک ترقی کی کہ وہ یورپ اور سوئٹزرلینڈ کے وسط میں بحیرۂ کونستانزہ تک پہنچ گئی اور پورے پچانوے سال تک ان علاقوں پر حکمراں رہی۔ آخر کار تمام اہل فرنگ متحدہ قوت سے ان کو مٹانے پر کمر بستہ ہوگئے، یہاں تک کہ وہ مسلسل لڑائیوں کے بعد مٹا دئے گئے۔ اس وقت مسلمان عربوں کی تعداد ۱۵۰۰ سے زیادہ نہ تھی۔ “ سید رشید رضا نے اپنے خیال کے مطابق، اس کو دردناک بزدلی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ”مسلمانوں کے تنزل کا ایک بڑا سبب بزدلی ہے۔ ہمارے اسلاف تمام اقوام عالم میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues