Al-Risala · August 2005 · page

آخری خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

مسلم ملکوں کے خلاف امریکا کے تباہ کن آپریشن کے بعد تمام دنیا کے مسلمانوں کی رائے بدل گئی ہے۔ اب دنیا بھر کے مسلمان امن کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالاں کہ ایک وقت تھا جب کہ ساری مسلم دنیا میں راقم الحروف تنہا امن کی بات کر رہا تھا۔ بقیہ تمام لکھنے اور بولنے والے تقریباً بلا استثناء متشددانہ جہاد کی باتیں کر رہے تھے۔ عرب دنیا کا پریس الجهاد هو الحل الوحید جیسے نعروں سے بھرا ہوا ہوتا تھا اور بر صغیر ہند کے مسلمان لڑا دے ممولے کو شہباز سے کارِ جز یہ ترانہ گا رہے تھے۔ مگر اب یہ لوگ ہر جگہ امن کے علم بردار بنے ہوئے ہیں۔

میرے نزدیک یہ عین وہی روش ہے جس کو قرآن میں انا کنا معكم (العنكبوت ۱۰) کے الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کو امن پسندی کا کریڈٹ صرف اُسی وقت مل سکتا ہے جب کہ وہ اعلان کے ساتھ یہ کہیں کہ اس سے پہلے ہم دیوانے تھے کہ ہم نے جنگ پسندی کی پالیسی اختیار کی۔ اب ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے امن کے راستہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ غلطی کا اعتراف کیے بغیر ان لوگوں کو امن پسندی کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ اعتراف کے بغیر اس قسم کی باتیں ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا (آل عمران ۱۸۸) کا مصداق ہیں۔

مسلم دنیا میں’’کاروان امن‘‘ کے اس نئے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے بھوپال کے حاجی محمد ادریس صاحب نے کہا کہ یہ واقعہ مجھے بنی اسرائیل کے اس واقعہ سے مشابہ نظر آتا ہے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: اور جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ اُن پر آپڑے گا۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے، اور یاد رکھو جو اس میں ہے تا کہ تم بچو (الاعراف ۱۷۱) حاجی محمد ادریس صاحب نے کہا کہ مسلم دنیا میں امریکا کی جارحانہ مداخلت اسی قسم کا ایک واقعہ تھی۔ خدا نے امریکا کے فوجی پہاڑ کو مسلمانوں کے اوپر مسلط کر کے کہا کہ الرسالہ کے پیغام امن کو مانو ورنہ یہ پہاڑ تمہارے اوپر گرا دیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کا رویہ بدل گیا۔

۱۴ مارچ ۲۰۰۵ کی دوپہر کو ہمارا جہاز دہلی ایرپورٹ پر اترا۔ لینڈ نگ نہایت ہموار تھی۔ جہاز

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page