Al-Risala · August 2005 · page

آخری خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

سے نکل کر ہم لوگ ائیر پورٹ میں داخل ہوئے۔ انڈیا میں بہت دنوں سے یہ چرچا ہے کہ ائیر پورٹ کو ورلڈ کلاس ائیر پورٹ بنایا جائے مگر ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔ میرے نزدیک اس معاملے میں اصل رکاوٹ کرپشن ہے۔ گورنمنٹ ائیر پورٹ اور اس قسم کے دوسرے اداروں کی تعمیر پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتی ہے، مگر مطلوب نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گورنمنٹ اس مقصد کے لیے جو رقم مختص کرتی ہے اس کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔

میرے نزدیک انڈیا میں اصل مسئلہ عالمی معیار کی تعمیر نہیں ہے بلکہ ملک سے کرپشن کو دور کرنا ہے۔ انڈیا میں کرپشن اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ غالباً اب کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گوشہ اس سے خالی نہیں۔ ہر نئی حکومت بڑے بڑے وعدے کرتی ہے۔ مگر کرپشن میں کوئی کمی نہیں آتی۔

دہلی ائیر پورٹ پر جو لوگ آئے تھے ان میں مسٹر نو دیپ کپور بھی تھے۔ وہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان میں ۱۳۰ سال سے کتابوں کا بزنس ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھے اپنے بزنس میں کافی ٹینشن رہتا تھا۔ مگر اب میں نے آپ کی صحبت کے نتیجہ میں یہ کیا کہ قناعت کو اپنا اُصول بنا لیا ہے۔ جب سے میں نے ایسا کیا ہے میرا ٹینشن بھی ختم ہوگیا ہے۔ اب میں سکون کی زندگی گزار رہا ہوں۔

بھوپال کے اجتماع میں شریک ہونے والوں میں سے ایک سعدیہ خان بھی تھیں۔ اجتماع سے واپسی کے بعد اُن سے اُن کا تاثر پوچھا گیا۔ انہوں نے کئی باتیں بتائیں۔ اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں کالج میں پڑھتی ہوں۔ مجھے گھر اور کار اور دوسری سہولتیں حاصل ہیں۔ پہلے میں دوسری لڑکیوں کی طرح سمجھتی تھی کہ یہ سہولتیں انجوائے کرنے کے لیے ہیں۔ مگر اب میں یہ سوچنے لگی ہوں کہ یہ چیزیں دراصل سپورٹ سسٹم ہیں۔ اُن کو خدا نے مجھے اس لیے دیا ہے کہ میں ان کو ذریعہ کے طور پر استعمال کروں اور اپنی زندگی کو اعلیٰ مقصد میں لگاؤں۔

بھوپال کے اجتماع میں میں نے اپنی تقریروں میں یہ بات نہیں کہی تھی۔ پھر سعدیہ خان کے ذہن میں یہ بات کہاں سے آئی۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اگر آپ کسی کے ذہن کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page