اسپین کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
دیوار ابھی تک یہاں موجود ہے۔ استنبول کی تاریخ ۲۵۰۰ سال پیچھے تک پھیلی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یونانیوں نے ۶۵۷ قبل مسیح میں استنبول کی بنیاد رکھی۔ موجودہ استنبول دو حصوں میں بٹا ہوا ہے— قدیم شہر اور جدید شہر۔ قدیم شہر میں تنگ گلیاں ہیں اور وہی ماحول ہے جو دہلی کے پرانے علاقہ میں دکھائی دیتا ہے۔ البتہ جدید استنبول ماڈرن یورپ کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ استنبول میں ایک مشہور اسلامک رائٹر رہتے ہیں ۔ ان کا نام مسٹر ہارون یحییٰ ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے اسلام پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ کتابیں انہوں نے ترکی زبان میں لکھی تھیں ۔ پھر ان کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا۔ ان کا ایک بڑا ادارہ استنبول میں ہے۔ ہارون یحییٰ کے ادارہ کی ایک ذمہ دار خاتون سسٹر بانو ڈیرن (Sister Banu Derin) کی طرف سے مجھے دہلی میں ٹیلی فون پر یہ پیغام ملا تھا کہ میں استنبول میں کچھ وقت کے لیے ٹھہروں اور ان کے ادارہ کو دیکھوں ۔ مجھے خود اس کا شوق تھا۔ مگر پہلے سے اس کے مطابق پروگرام نہ بن سکا۔ چنانچہ میں استنبول میں نہ ٹھہر سکا اور معمول کے مطابق، استنبول ایرپورٹ سے دوسرے جہاز کے ذریعہ آگے کے لیے روانہ ہوگیا۔
مز پریا ملک نے ہارون یحییٰ کی اکثر کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے ان سے ہارون یحییٰ کی کتابوں کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا: Harun Yahya tries to increase faith through scientific reasoning. But the only problem is that he becomes too technical in his scientific description which at times makes it difficult to comprehend. (Priya Malik)
استنبول سے ہمیں میڈ رڈ کے لیے اگلا جہاز لینا تھا۔ وقت بہت کم تھا۔ مگر ہوائی اڈہ کے عملہ نے ساری کارروائی اتنی تیزی سے انجام دی کہ ہم وقت پر ہوائی جہاز کے اندر پہنچ گئے ۔ استنبول سے میڈ رڈ کی پرواز ساڑھے تین گھنٹہ کی تھی۔ راستہ میں ٹرکش ایرلائن کی فلائٹ میگزین اسکائی لائف (Skylife) کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۳ دیکھا۔ اس کے مضامین ٹرکش اور انگریزی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues