Al-Risala · January 2005 · page 4

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۴

شجاعت و شجامت کے لیے مشہور تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک مسلمان تن تنہا دس آدمیوں کا اور بعض دفعہ سو کا مقابلہ کرتا تھا۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ وہ موت کے نام سے بھی ڈرتے ہیں۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے دشمن اپنی قوم اور وطن کے لیے کس کس طرح موت سے کھیل رہے ہیں۔ لیکن ہم پھر بھی شرم نہیں کرتے۔ پرانے زمانہ کی یہ روایات بدل گئی ہیں۔ اب ان کے چند آدمی مسلمانوں کی بڑی تعداد کا مقابلہ کر کے مسلمانوں کو شکست دے دیتے ہیں۔ ‘‘ سید رشید رضا اور ان کے جیسے دوسرے رہنماؤں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ غلط تقابل کا شکار ہیں۔ وہ زوال یافتہ قوم کا تقابل عروج یافتہ قوم سے کر رہے ہیں۔ دورِ اول میں مسلمان عروج پر تھے اور یورپی قومیں زوال پر۔ بعد کو یہ ہوا کہ یورپی قوموں میں احیاء کا عمل ہوا اور وہ عروج پر پہنچ گئیں۔ جب کہ اس کے مقابلہ میں مسلمان قانونِ فطرت کے تحت اپنے زوال کے دور میں پہنچ چکے تھے۔ اس فرق کو نہ رشید رضا اور شکیب ارسلان نے سمجھا اور نہ اقبال اور شبلی نعمانی اس کو سمجھ سکے۔ اس بے خبری کی بنا پر ان لوگوں نے مسئلہ کا حل صرف یہ سمجھا کہ ہدی خوانی کر کے مسلمانوں کو ابھارا جائے۔ مگر یہ ہدی خوانی یا بانگِ درا کا مسئلہ نہ تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے احیاء نو کا مسئلہ تھا۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ بنجر زمین کو دوبارہ محنت کر کے زرخیز بنانے کا مسئلہ تھا (الحديد ١٦۔ ١٧)۔ یہ تشخیص کی غلطی تھی۔ تشخیص کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوسال سے بھی زیادہ لمبی جدوجہد بے نتیجہ ہو کر رہ گئی، وہ کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچی۔

بارسلونا سے اگلے جہاز کے ذریعہ استنبول کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ نسبتاً مختصر سفر تھا۔ لمبے سفر میں عام طور پر ڈائرکٹ فلائٹ نہیں ہوتی۔ مسافر کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایرپورٹ سے دوسرے ایرپورٹ پہنچے اور جہاز کو بدل کر اپنا سفر جاری رکھے۔

جہاز کو بدلنے کا یہ معاملہ میرے ذوق کے سخت خلاف ہے۔ تاہم اس کا ایک فائدہ ہے۔ ایک ہی جہاز کے ذریعہ زیادہ لمبا سفر کرنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، خواہ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page