فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۵
کیوں کہ سفر بہر حال سفر ہے۔ جہاز بدلنے کی صورت میں مسافر کو ایک قسم کی راحت مل جاتی ہے۔ ائیرپورٹ پر چڑھنے اترنے اور نقل و حرکت کی وجہ سے سفر کی اکتاہٹ بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ استنبول پہنچے تو دوبارہ وہی دیکھا ہوا منظر سامنے تھا۔ استنبول یورپ کا ایک شہر ہے مگر یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلہ میں ابھی وہ بہت پیچھے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی ابھی تک یورپین یونین کا ممبر نہ بنایا جا سکا۔
مسلمان عام طور پر اس کو تعصب کا ایک معاملہ سمجھتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ ترکی کو یورپی یونین کے ساتھ ملانے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی غریب شخص ایک امیر شخص سے کہے کہ آؤ ہم اور تم اپنے دسترخوان کو ملا لیں اور مشترک طور پر ایک ساتھ کھائیں۔ یورپ کے ناقدین خود اپنے معاملہ میں کبھی ایسی غیر مساوی مشارکت کو قبول نہیں کریں گے پھر وہ کیوں کر امید کر رہے ہیں کہ ترقی یافتہ یورپ اس کو قبول کر لے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ترکی کو یورپی یونین سے ملانے کے عمل کا آغاز ترکی کو ہر اعتبار سے مغربی معیار کے مطابق ترقی یافتہ بنانے سے ہوتا ہے نہ کہ ترکی کو اس کی موجودہ حالت پر باقی رکھتے ہوئے دونوں کو یکساں طور پر ایک درجہ دینے کا۔
استنبول سے دہلی کا سفر ایک لمبا سفر تھا۔ یہ سفر ایرا انڈیا کے ذریعہ طے ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues