Al-Risala · January 2005 · page 6

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۶

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۶۶

۱۔ زی نیوز (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۲۲ ستمبر ۲۰۰۲ کو ایک خصوصی پروگرام ہوا۔ چار سال پہلے ایسا ہوا کہ عارف نامی ایک فوجی نے کارگل کی لڑائی میں حصہ لیا۔ پھر وہ غائب ہو گیا۔ لڑائی پر جانے سے صرف چند مہینہ پہلے عارف کی شادی ایک مسلم خاتون سے ہوئی جس کا نام گڑیا تھا۔ تین سال سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد عارف کو مفقود الخبر قرار دے دیا گیا اور گڑیا کا دوسرا نکاح توفیق نامی ایک شخص سے کر دیا گیا۔ مگر عارف زندہ تھا اور وہ پاکستان کی جیل میں تھا۔ چار سال بعد وہ چھوٹ کر آیا۔ اُس وقت تک گڑیا دوسرے شوہر کے ذریعہ حاملہ ہو چکی تھی۔ اب یہ سوال تھا کہ گڑیا کا معاملہ کس طرح طے کیا جائے۔ ۲۲ ستمبر کو گاؤں کے لوگ، نیز متعدد علماء زی ٹی وی کے اسٹوڈیو میں اکٹھا ہوئے اور یہاں ایک گھنٹہ سے زیادہ بحث کے بعد فقہی مسئلہ کے مطابق، اس کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں بطور ایک ایکسپرٹ کے شرکت کی اور معاملہ کو حل کرنے میں مدد کی۔ خدا کے فضل سے معاملہ خوش اُسلوبی کے ساتھ طے ہو گیا۔

۲۔ ٹی وی نیٹ ورک آج تک (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۳۰ ستمبر ۲۰۰۲ کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کے انٹرویور مسٹر محمد انس زبیر اور کیمرہ مین دھیرج ہیلان تھے۔ انٹرویو کا موضوع شب برأت تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن کی سورہ نمبر ۴۴ (الدخان) میں ایک آیت ہے جس میں ایک بابرکت رات کا ذکر ہے۔ اس رات کو اہم خدائی فیصلے کئے جاتے ہیں۔ قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ رات کس تاریخ کو ہوتی ہے۔ البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ۱۵ شعبان کی رات ہے۔ اس رات کو تلاوت اور عبادت اور دعا کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ عبادت کا ثواب یا دعا کی مقبولیت پر اسرار طور پر نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق اخلاص اور دل کی نیت سے ہے۔ ۳۔ نرو ند نا کی ٹیم نے ۳۰ ستمبر ۲۰۰۲ کو دوردرشن کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کے سوالات زیادہ تر دو موضوع سے متعلق تھے۔ ایک یہ کہ اسلام میں قومی اتحاد کا تصور کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ ایک خالق اور ایک انسان کا تصور قومی ایکتا اور انسانی اتحاد پیدا کرتا ہے۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ ہندوستان کی ندیوں کا رول اس سلسلہ میں کیا ہے۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ ندی یا پہاڑ یا سورج یا چاند کوئی چیز اسلام میں مقدس نہیں ہے۔ البتہ نیچر کو اسلام میں اخلاقی ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً دریا اور پیڑ انسان کو کسی معاوضہ کے بغیر بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو فائدہ بخش بن کر دنیا میں رہنا چاہئے۔ ۴۔ گاندھی درشن سمیتی (نئی دہلی) میں یکم اکتوبر ۲۰۰۲ کو ایک نیشنل سیمینار ہوا۔ یہ سیمینار مشہور کانگریسی لیڈر رزل دلش پانڈے کی صدارت میں ہوا۔ اس میں کئی ممتاز شخصیتیں شریک ہوئیں ۔ یہ سیمینار گاندھی اور گنگا کے موضوع پر ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ گاندھی اور گنگا کو ملک کی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page