Al-Risala · September 2005 · page

قولِ بلیغ کیا ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

قولِ بلیغ کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں ارشاد ہوا ہے : فأعرض عنهم وعظهم وقل لهم في انفسهم قولا بلیغا (النساء (۳۶) یعنی تم اُن سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے اندر تک پہنچ جانے والی ہو۔

بلیغ کے وہی معنی ہیں جو بالغ کے معنی ہیں، یعنی پہنچنے والا۔ آیت کی نحوی ترتیب یہ ہے : وقل لهم قولاً بلیغاً في انفسهم یعنی اُن سے بات کہو اُن کے اندر تک پہنچ جانے والی بات ۔ لفظِ بدل کر کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اُن سے وہ بات کہو جو اُن کے مائنڈ کو ایڈریس کرے، جو اُن کے ذہن کو خطاب کرنے والی ہو۔ جس میں اُن کے فکر واحساس کی پوری رعایت شامل ہو۔ مثلاً مکی دور کی روایات میں آیا ہے کہ ایک بار قریش کے سردار رسول اللہ کے چچا ابو طالب کے مکان پر اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر جو گفتگو ہوئی اس میں آپ نے سرداران قریش کے ایک سوال کے جواب میں کہا: كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب وتدين لكم بها العجم (حياة الصحابه ۵۶/۱) یعنی میں تم کو ایک حکم کی طرف بلاتا ہوں، تم مجھے یہ کلمہ دے دو، تم اس کے ذریعہ عرب کے مالک بن جاؤ گے اور اس سے عجم تمہارے تابع ہو جائیں گے۔

رسول اللہ کا یہ قول مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا اصل مقصد یہی تھا کہ آپ عرب وعجم کے اوپر حکومت و سیادت حاصل کریں۔ یہ بات آپ نے سردارانِ قریش کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے فرمائی۔ یہ سردارانِ قریش حاکمانہ نفسیات میں جی رہے تھے، محکومی ان کے لیے خارج از بحث تھی۔ اس لیے اس وقت اسی قسم کا ایک قول اُن کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا بن سکتا تھا جو کہ آپ نے فرمایا۔

مذکورہ قولِ رسول کو اس مفہوم میں لینے کا ثبوت یہ ہے کہ دوسرے بہت سے مواقع پر آپ سے اسی قسم کا سوال کیا گیا لیکن آپ نے اس سے مختلف انداز میں سائل کا جواب دیا۔ احادیث کا مطالعہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page