قولِ بلیغ کیا ہے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵
بتاتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں لوگوں کے سوال کا جواب دیا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق اسی لیے تھا کہ آپ نے ہر ایک سے ایسے اُسلوب میں کلام کیا جو مخاطب کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔
دعوت کے عمل میں قولِ بلیغ کا یہ اُصول بے حد اہم ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ لوگوں کے سوچنے کا انداز یکساں نہیں ہوتا۔ ہر ایک الگ الگ انداز سے سوچتا ہے۔ ایسی حالت میں مؤثر دعوتی خطاب وہی ہوسکتا ہے جس میں مخاطب کے ذہن کی رعایت کرتے ہوئے اپنی بات اُس کو پہنچائی جائے۔ مثلاً ایک شخص تلاشِ حقیقت کے سوال سے دوچار ہے تو اُس سے ایسی بات کہی جائے گی جس میں وہ اپنی تلاش کا جواب پا رہا ہو۔ اُس وقت اگر کوئی دوسری بات اُس سے کہی جائے تو وہ اُس کو غیر متعلق نظر آئے گی اور وہ اس کو رد کر دے گا۔ اسی طرح کوئی شخص روحانی سکون کا طالب ہو تو اُس سے ایسے اُسلوب میں بات کی جائے گی جس میں وہ اپنے داخلی سوال کا جواب پا رہا ہو۔ اسی طرح اگر کوئی شخص خالص علمی اور منطقی انداز میں دین کی صداقت کو سمجھنا چاہتا ہو تو اُس سے اُسی اُسلوب میں بات کی جائے گی جو اُس کے منطقی طرزِ فکر کو تسکین دینے والی ہو۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بعد از موت کے احوال جاننا چاہتا ہو تو اُس کو اُس کی طلب کے مطابق فکری خوراک پہنچائی جائے گی تا کہ وہ محسوس کرے کہ آپ کے جواب سے اُس کا ذہن ایڈرس ہورہا ہے، وغیرہ۔
قولِ بلیغ کے اس اسلوب کا کوئی لگا بندھا طریقہ نہیں ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ داعی کے دل میں خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ وہ مخاطب کے ذہن کو اچھی طرح پڑھے اور پھر اُس کے ذہن کی رعایت کرتے ہوئے اُس سے کلام کرے۔ قولِ بلیغ کے اس اصول کو اپنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ داعی پہلے ہی خطاب میں سب کچھ کہہ دینے کا مزاج نہ رکھتا ہو بلکہ وہ تدریجی اصول پر یقین رکھتے ہوئے پہلے خطاب میں پہلی بات کہے اور دوسری باتوں کو اگلے خطاب کے لیے مؤخر کر دے۔ قولِ بلیغ وہ ہے جس میں مخاطب کی پوری رعایت کی گئی ہو۔ مخاطب کی رعایت کے بغیر کوئی قول کبھی قولِ بلیغ نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues