صبر وشکر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۲۲
صبر وشکر
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لئے خیر ہے۔ اور ایسا مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اس کو آرام ملتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ اور اگر اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے:
عن صهیب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عجباً لأمر المؤمن ! إنّ أمره كله له خير، وليس ذالك لأحد إلا للمؤمن، إن أصابته سرّاء شكر فكان خيرا له وإن أصابته ضراء صبر فكان خيرا له (صحیح مسلم، بحوالہ مشكوة المصابيح، رقم الحديث ۵۲۹۷)
The affair of the believer is truly strange. Every situation proves good for him and this is special to a believer alone. If he finds himself in a pleasant situation, he is thankful to God, and that is good for him. If he is faced with unpleasant situation he keeps patience and again that is good for him. مومن کے ساتھ دوطرفہ خیر کا یہ معاملہ کسی پراسرار سبب سے نہیں ہوتا، وہ مکمل طور پر ایک معلوم سبب کے تحت پیش آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مومن اس انسان کا نام ہے جس کو دریافت کی سطح تک خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ ایسے انسان کے اندر ایک ذہنی انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے اندر شعوری بیداری کی صفت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ معاملات اور تجربات کو حقیقت کی نظر سے دیکھے۔ وہ وقتی جذبات سے بلند ہوکر معاملہ کی گہرائی کو سمجھ سکے۔ مومن اپنی اس حقیقت شناسی کی بنا پر اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ جس تجربہ سے بھی گزرے وہ اس کو مثبت نتیجہ میں تبدیل کر سکے۔ وہ ہر واقعہ میں خدا کی کارفرمائی کو دیکھے۔ وہ ذاتی تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکے۔ مومن کی یہی وہ صفات ہیں جو اس کے اندر یہ با معنی صلاحیت پیدا کردیتی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues