۔ ۔ ۔ ۔ کی ، اس ، اڑا ، برتاؤ ، زنگ ،
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳
ہیں کہ اس کو جب خوشی اور راحت کا تجربہ ہو تو وہ سرکش نہ بن جائے ۔ وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ اسی اعترافِ خداوندی کا نام شکر ہے۔ شکر بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے۔ تا ہم دنیا کی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ خوش گوار تجربے نہیں ہوتے ۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ناخوش گوار تجربات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت مومن کی شعوری بیداری اس کو اس سے بچا لیتی ہے کہ وہ اس پر شکایت یا فریاد کرنے لگے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو ایک فطری عمل سمجھ کر اس سے یہ یقین حاصل کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی چیز ہے۔ حالات یقیناً بدلیں گے اور وہ جلدہی مجھ کو زیادہ بہتر زندگی عطا کریں گے ، خواہ آج کی دنیا میں یا آج کے بعد بننے والی دوسری ابدی دنیا میں ۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔ نا خوش گوار صورت کو رضا مندی کے ساتھ قبول کرنا اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں ہے، اردو، برما، ماه نامه، ب دے سکتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ کی ، اس ، اڑا ، برتاؤ ، زنگ ،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues