Al-Risala · September 2005 · page

قیادت کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

اپنا قائدانہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان جس حالت میں ہیں اس میں سب سے پہلا کام یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کی تعمیرِ نو کا نقطۂ آغاز (starting point) کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں اندر منفی سوچ (negative thinking) کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، اور اس کے بجائے ان کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) لائی جائے۔ کسی قوم کی حقیقی تعمیر صرف مثبت اندازِ فکر کے ذریعہ ہوتی ہے، منفی اندازِ فکر کے ذریعہ کبھی کسی قوم کی تعمیر نہیں ہوتی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ، مثلاً انڈیا میں، ہندوؤں کو پرومسلم اور اینٹی مسلم کے خانوں میں بانٹے ہوئے ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر ان کا حال یہ ہے کہ وہ، مثلاً امریکہ کو اسلام دشمن اور چین کو اسلام دوست سمجھتے ہیں۔ انسانوں کو اس طرح دو قسموں میں بانٹنا ایک ایسی مہلک غلطی ہے جس کے بعد حقیقی معنوں میں ملی تعمیر کا کوئی امکان ہی نہیں۔

اس طرح طریقِ عمل کے بارے میں ساری دنیا کے مسلمان کے جہادی طریق کار کو اپنے مسئلہ کا واحد حل سمجھنے لگے ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص دعوتی طریق کار کی طرف مسلمانوں کو بلائے تو وہ ان کو اپیل نہیں کرتا۔ حالانکہ موجودہ حالات میں جہادی طریق کار صرف بے فائدہ لڑائی کے ہم معنی ہے۔ جب کہ دعوتی طریق کار ابدی طور پر ایک نتیجہ خیز (result oriented) جدوجہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو بھی حقیقی قائد ہوگا وہ مسلمانوں کو یہ پیغام دے گا کہ تم لوگ ساری دنیا کو یکساں طور پر انسان کی نظر سے دیکھو نہ کہ دوست اور دشمن کی نظر سے۔ اس طرح وہ کہے گا کہ تم جہاد کے نام پر کی جانے والی مسلح جدوجہد کو چھوڑ و اور پرامن دعوتی جدوجہد کو اختیار کرو۔ مگر مسلمانوں کے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر یہ باتیں مسلمانوں کو اپیل نہیں کریں گی۔ قائد موجود ہوگا مگر قائد اپنا قیادتی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے گا۔

ایسی حالت میں مسلمانوں کے اندر کسی حقیقی آغاز کی صورت صرف یہ ہے کہ خدا کے کچھ بندے وہ قربانی دیں جو اس دنیا میں بلاشبہ سب سے بڑی قربانی ہے۔ یعنی وہ غیر مقبول بننے کی قیمت

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page