Al-Risala · January 2005 · page 7

Universal Friendship and Forgiveness

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۷

پہچان بتایا جاتا ہے۔ مگر آزادی کے بعد ملک میں گاندھی اور گنگا کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ حالاں کہ گاندھی اور گنگا کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاچکے۔ اصل یہ ہے کہ انڈیا میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ کرپشن کی وجہ سے یہاں کے ہر کام بگڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں انڈیا میں کسی بھی اصلاحی اور تعمیری کام کا آغاز کرپشن کے خاتمہ کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ موجودہ کرپشن کی صورت میں کوئی تعمیری کام ہونے والا نہیں۔

۵۔ جین مہا سبھا کی طرف سے دہلی میں ۱۲ اکتوبر ۲۰۰۴ کو ایک سرودھرم سمبھاو سماروہ منعقد ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اظہار خیال کیا۔ اس کا افتتاح دہلی کی چیف منسٹر شیلا دکشت نے کیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ان کو تقریر کا جو موضوع دیا گیا تھا وہ یہ تھا:

Universal Friendship and Forgiveness

انہوں نے بتایا کہ ہر مذہب میں اور اسی طرح اسلام میں ان دونوں باتوں پر کافی زور دیا گیا ہے۔ ایک طرف اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مذہبی یا کلچرل فرق کے باوجود تمام لوگوں کو انسان کے روپ میں دیکھا جائے۔ دوسری طرف سچے مومن کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو معاف کرنے والا ہوتا ہے (والعافین عن الناس) لوگوں کے اندر عفو و درگزر کا مزاج بہت ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تمام انسانوں سے دوستانہ تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ ۶۔ منسٹری آف ہوم افئرس کے تحت قائم شدہ ادارہ نیشنل فاؤنڈیشن فار کمیونل ہارمنی کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کے نام دعوت نامہ (۲۲ ستمبر ۲۰۰۴) موصول ہوا۔ اس میں دعوت دی گئی تھی کہ وہ ادارہ کی گورننگ باڈی کے ممبر کی حیثیت سے ۱۵ اکتوبر کو ہونے والی میٹنگ میں شرکت کریں۔ یہ میٹنگ ہوم منسٹر شیوراج پاٹل کی صدارت میں ہوئی۔ اس کا موضوع ملک میں کمیونل ہارمنی کے مسئلہ پر غور کرنا تھا۔ مگر صدر اسلامی مرکز بعض وجوہ سے اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ کمیونل ہارمنی اور پیس کے موضوع پر ان کی تازہ مطبوعہ کتاب امن عالم (صفحات ۲۰۸) بھیج دی گئی جو ہوم منسٹر مسٹر شیوراج پاٹل کو دستی طور پر پہنچائی گئی۔

۷۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) میں ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ کی شام کو خبروں کی بلیٹن میں ”ماڈل نکاح نامہ“ کی خبر نشر ہوئی جو کچھ لوگوں کی طرف سے بنایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پروگرام کے دوران ایکسپرٹ کے طور پر صدر اسلامی مرکز کی رائے بلیٹن میں شامل کر کے نشر کی گئی۔ اس کی صورت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے آفس سے ٹیلی فون پر اپنی رائے بتائی اور وہ بلیٹن کے ساتھ ان کے لائیو ٹیلی کاسٹ میں شامل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل نکاح نامہ موجودہ حالات میں عملاً چلنے والا نہیں۔ اس سے پہلے اسی مسلم تنظیم نے شاہ بانو کے مسئلہ پر ماڈل ایکٹ بنوایا تھا مگر وہ عملاً رائج نہ ہوسکا۔ خود مسلمان اس کے خلاف عدالتوں سے فیصلے لیتے رہے۔ اس معاملہ میں اصل مسئلہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنا ہے نہ کہ کوئی دستاویز جاری کرنا۔

۸۔ آج تک ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page