Universal Friendship and Forgiveness
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵، صفحہ ۸
کے انٹرویو ر مسٹر محمد انس زبیر تھے۔ اس کا موضوع ارکان خمسہ تھا۔ اس کے تحت بتایا گیا کہ یہ پانچ ارکان گویا اسلام کے چار بنیادی اقدار (basic values) ہیں۔ اول توحید، توحید کا مطلب ہے خدا رخی زندگی اختیار کرنا۔ دوم نماز، نماز اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی دنیا میں تواضع کے ساتھ رہے، وہ تکبر اور سرکشی سے بچے ۔ سوم روزہ ، روزہ کا مقصد سلَف کنٹرول کی تربیت ہے۔ چہارم زکوٰۃ ، زکوٰۃ کی حقیقت یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے اندر انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ پنجم حج ، حج عالمی اتحاد کا سبق ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھیں ۔
9۔ ہندی روزنامہ سہارا سے (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر سنیل کمار نے 11 اکتوبر 2002 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع ’’ہندوستان میں فرقہ واریت کا مسئلہ‘‘ تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فرقہ وارانہ اختلاف ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو اتنا زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور بنا دیا جائے کہ وہ بھڑکانے والوں کے شکار نہ بنیں ۔ سماج میں ہمیشہ اختلاف بھی ہوتا ہے اور اختلاف کو بھڑکانے والے بھی۔ اس کا علاج سماج کو با شعور بنانا ہے نہ کہ اختلاف کو یا بھڑکانے والوں کو مٹانا۔
10۔ ہفت روزہ نئی دنیا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جمشید عادل نے 18 اکتوبر 2002 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو نئی دنیا کے قرآن نمبر کے لیے تھا۔ اظہار خیال کے دوران بتایا گیا کہ قرآن ایک ابدی کتاب ہے اور وہ تمام انسانوں کے لیے ہے۔ قرآن اب بھی اسی اصل حالت میں محفوظ ہے جیسا کہ وہ پیغمبرِ اسلام کے زمانہ میں اترا تھا۔
11۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 25 اکتوبر 2002 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر مسٹر محمد قاسم انصاری تھے۔ سوالات کا تعلق رمضان اور روزہ سے تھا۔ اس سلسلہ میں جو کچھ بتایا گیا اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ روزہ دراصل صبر کی تربیت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : ہو شہر الصبر ۔ زندگی میں صبر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ صبر کے بغیر آدمی نہ دین پر قائم رہ سکتا اور نہ دنیا میں ترقی حاصل کر سکتا۔ اسی لیے سال کے ایک مہینہ کو صبر کی تربیت کے لیے شریعت میں خاص کیا گیا۔
12۔ سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں 27 اکتوبر ۲۰۰۴ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب پر اظہار خیال کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور ہیومن ویلو ز اِن اسلام کے موضوع پر تقریر کی۔ یہ پروگرام ایک گھنٹہ کا تھا۔ اس موقع پر اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں بھی لوگوں میں تقسیم کی گئیں۔
13۔ نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (انیکسی) میں 2 نومبر ۲۰۰۴ کو دو روزہ سیمینار ہوا۔ اس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا انتظام جس ادارہ کی طرف سے کیا گیا تھا اس کا نام یہ ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues