Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

اردو روزنامہ اخبار مشرق کا شمارہ ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ بھی جہاز کے اندر موجود تھا۔ اس شمارہ میں جو خبریں شائع ہوئی تھیں اُن میں سے ایک خبر وہ تھی جس کا دوسری عنوان یہ تھا: ’لندن میں محمد ﷺ کی حیات طیبہ پر بنی فلم ریلیز ہوگئی۔ فلم کا مقصد غیر مسلموں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہے۔ اس عنوان کے تحت حسب ذیل خبر درج تھی:

لندن ۱۶ نومبر (یو این آئی) امریکی معاشرہ سے مسلمانوں کا رابطہ بہتر بنانے کی سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ پر ایک اینیمیٹڈ فلم بنائی گئی۔ دستی تصاویر سے بنائی جانے والی اس فلم ’محمد دی لاسٹ پروفیٹ‘ کی نمائش عید کے دن شروع ہوئی ہے۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹروں کا کہنا ہے کہ فلم کا مقصد مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو اسلام اور اسلام کی تاریخ کی بابت بتانا اور ان کو تفریح مہیا کرنا ہے۔ بی بی سی نے فائن میڈیا گروپ کے اسامہ جمال کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ فلم باکس آفس پر کیاکمال دکھاتی ہے سوال یہ ہے کہ لوگ فلم سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔ اسامہ جمال نے بتایا کہ پہلے اس فلم کی نمائش پورے امریکا میں ۲۰۰۲ میں کی جانی تھی لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کی وجہ سے روک دی گئی کیوں کہ لوگ اس وقت فلم کے موڈ میں نہیں تھے۔ مسلمانوں کو امید ہے کہ اس فلم کے ذریعہ مسلمانوں اور امریکیوں کے درمیان رابطہ قائم ہو سکے گا۔ پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی کی تعلیمات پر مبنی ۹۰ منٹ کی یہ فلم امریکا اور کناڈا کے ۴۰ شہروں میں دکھائی جائے گی۔ (صفحہ ۸)

پیغمبر اسلام کی زندگی پر بنائی جانے والی اس فلم کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان تعلقات درست ہوں گے۔ میرے نزدیک یہ ایک غیر عملی سوچ ہے۔ مذکورہ قسم کی فلم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مغربی قوموں میں مسلمانوں کے بارہ میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ خود مسلمانوں کی اپنی روش کو دیکھ کر ہوئی ہیں، نہ کہ پیغمبر اسلام کی تاریخ کی بنا پر ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page