Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

ہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے بارہ میں مغربی قوموں کی غلط فہمی کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی روش کو بدلا جائے۔ اگر یہ مسلمان اپنی روش کو نہ بدلیں تو پیغمبر اسلام کی زندگی کی فلم کو دیکھ کر مغربی قوموں کی سوچ مسلمانوں کے بارہ میں ہرگز بدلنے والی نہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کا یہ مزاج بڑا عجیب ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے قابلِ شکایت باتوں کو دیکھ کر دوسری قوموں کے درمیان ان کے بارہ میں منفی رائے قائم ہوتی ہے تو یہ دانشور قرآن کی تعلیمات یا پیغمبر اسلام کی زندگی کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس معاملہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو نصیحت کی جائے۔ مسلمانوں کی زندگیوں کی اصلاح کی جائے۔ پیغمبر اسلام کے اُسوہ حسنہ سے کسی کو شکایت نہیں۔ لوگوں کو اصل شکایت مسلمانوں کے اُسوۂ سیئہ سے ہے۔ جب تک مسلمانوں کی موجودہ روش باقی ہے، لوگوں کی غلط فہمی دور ہونے والی نہیں۔

اس معاملہ کے دو پہلو ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک ہے مسلمانوں کی ذاتی زندگی۔ اور دوسری چیز مسلمانوں کی زندگی کا وہ پہلو جو میڈیا میں آتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اسلامی دعوت کے سلسلے میں اصل اہمیت دوسرے پہلو کی ہے۔ یعنی مسلمانوں کی اخباری تصویر یا اُن کی میڈیا امیج۔ جہاں تک کسی مسلمان کی ذاتی زندگی کا تعلق ہے، وہ آخرت کے اعتبار سے بلاشبہ اہم ہے۔ مگر جہاں تک دوسروں میں اسلام کی تصویر بننے کا معاملہ ہے۔ وہ مسلمانوں کی میڈیا امیج سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔

یہ صورت حال جدید میڈیا کے دور کی بنا پر پیدا ہوئی ہے۔ میڈیا کے ذریعہ بہت جلد باتیں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ مگر میڈیا یا انتخابی نیوز (selective news) کی انڈسٹری ہے۔ میڈیا صرف اُن باتوں کو منتخب کرتا ہے، جن میں کوئی سنسنی خیز پہلو ہو۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِن معاملات میں سخت احتیاط کا رویہ اختیار کریں جو میڈیا میں نمایاں ہونے والے ہیں۔ اگر مسلمان اس بارہ میں حساس ہو جائیں اور ایسی خبر وجود میں لانے سے سخت پرہیز کریں جو میڈیا میں نمایاں ہو کر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page