سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
اسلام کی بدنامی کا سبب بننے والی ہوں تو دعوت کی رفتار بہت زیادہ تیز ہو جائے گی ۔ ٹائمس آف انڈیا (۷ نومبر ۲۰۰۲) میں ایک خبر اس عنوان کے تحت چھپی تھی ۔ جے این یو میں سنٹر برائے مطالعہ امن کا قیام :
JNU to launch centre for peace & conflict resolution. خبر میں بتایا گیا تھا کہ دہلی کی دو یونیورسٹیوں ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں امن کا شعبہ کھولا جارہا ہے۔ جس کا مقصد امن سے متعلق موضوعات کا مطالعہ ہوگا اور یہ کہ باہمی اختلافات کس طرح حل کیے جائیں ۔ اس سلسلہ میں دونوں یونیورسٹیوں میں سرٹیفکٹ کورس اور ڈگری کورس اور ایم فل کورس تک تعلیم کا انتظام ہوگا (صفحہ ۹)
اس قسم کے کورس دوسری عالمی یونیورسٹیوں میں بھی موجود ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس قسم کے تعلیمی کورس سے امن (peace) کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ میرے تجربہ کے مطابق ، یونیورسٹی کی تعلیم صرف فنی موضوعات کے لیے کارآمد ہے۔ امن کا تعلق سیرت و کردار کی اصلاح سے ہے۔ اور انسان کی سیرت و کردار کی اصلاح غیر رسمی تعلیم (informal education) کے ذریعہ ہوتی ہے، نہ کہ رسمی تعلیم (formal education) کے ذریعہ۔
مصلحین (reformers) نے موجودہ زمانہ میں دنیا بھر میں اپنے بہت سے تعلیمی ادارے بنائے جن کا مقصد اصلاح یافتہ انسان تیار کرنا تھا۔ بنگال کی شانتی نکیتن (یونیورسٹی) کا مقصد بھی یہی تھا جس کو نوبیل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور نے بڑی بڑی امیدوں کے ساتھ قائم کیا تھا۔ مگر عملاً وہ دوسری یونیورسٹیوں کی طرح ایک عام یونیورسٹی بن کر رہ گئی ، وہ ٹیگور کے مطلوب انسان کو پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ میرے نزدیک تعلیمی اداروں کو تعلیم برائے تعلیم کے اصول پر کام کرنا چاہیے۔ جہاں تک انسان سازی کا تعلق ہے ، وہ روحانی اور مذہبی رہنماؤں کو انجام دینا چاہیے۔ ہندوستان ٹائمس (۷ نومبر ۲۰۰۲) میں ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن نے ایک نیا بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں اہل پاکستان کو خطاب کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان کے مسلمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues