Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے تمہارے ملک اور افغانستان پر حملہ کر رکھا ہے۔ تم کو امریکا سے جنگ کرنے کے لیے اُٹھ جانا چاہیے (صفحہ ۱۷)

القاعدہ کے چیف کا یہ بیان مستند ہے یا نہیں ، یہ ایک اضافی بات ہے۔ اس لیے کہ لمبی مدت سے اس قسم کے مجاہدانہ بیانات مسلمانوں کے درمیان بے حد مقبول رہے ہیں۔ اس مدت میں کسی بھی قابلِ ذکر شخص نے ان جارحانہ بیانات کی کھلی مذمت نہیں کی — ڈاکٹر اقبال، مسٹر محمد علی جناح ، سید ابُو الاعلیٰ مودودی اور دوسرے تمام لوگ خود بھی اسی قسم کی بولی بولتے رہے اور دوسرے لوگ جو اس قسم کی بولی بول رہے تھے، اُن کی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر بالفرض یہ بیان اسامہ بن لادن کا نہ ہوتا تب بھی وہ موجودہ مسلمانوں کے مزاج کے عین مطابق ہوگا۔

اس معاملہ میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف جہاد کریں بلکہ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ لمبی مدت تک جہاد کرنے کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ ایسی حالت میں کہنے کی بات یہ ہے کہ اب ہم کو چاہیے کہ اپنے نقشۂ کار پر نظر ثانی کریں۔ ’’دشمن کے خلاف جہاد‘‘ کے الفاظ کو چھوڑ کر وہ الفاظ بولیں جن کی تعلیم قرآن میں دی گئی ہے۔ وہ یہ کہ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ امن اور دوستی کا معاملہ کریں۔ اور فطرت کے قانون کو موقع دیں کہ وہ ہمارے دشمن کو ہمارے دوست میں تبدیل کردے (فإذا الذي بينک و بينہ عداوة كانہ ولي حميم)۔

تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز بمبئی ائیرپورٹ پر اُترا۔ یہاں کئی ساتھی ملنے کے لیے موجود تھے۔ ائیرپورٹ سے روانہ ہو کر میں ہارون شیخ صاحب کے آفس پہنچا۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا اور کچھ لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

۱۷ نومبر کی شام کی اس ملاقات میں اے ۔ جی خاں سرگروہ ایڈوکیٹ (26504363 .Ph)

سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے الرسالہ میں ہیمرنگ کی بابت پڑھا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ ہیمرنگ کیا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page