Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ہر مرد اور عورت کنڈیشننگ کا کیس ہیں۔ جب تک اس کنڈیشننگ کو توڑا نہ جائے وہ کھلے ذہن کے ساتھ باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور ہیمرنگ کا مقصد اس کنڈیشننگ کو توڑنا ہے تا کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ چیزوں کو دیکھنے کے قابل ہو جائیں۔ مگر ہیمرنگ کے اس طریقہ کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ جو شخص ہیمرنگ کر رہا ہے اس کے دل میں انسان کے لیے گہری محبت کا جذبہ ہو۔ اس کی ہیمرنگ محبت کی ہیمرنگ ہو۔ اس کے بغیر ہیمرنگ ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ نصیحت۔

۱۷ نومبرکی شام کو میں مسٹر ہارون شیخ کے مکان پر گیا۔ بمبئی میں میرا قیام زیادہ تر یہیں تھا۔ ۱۸ نومبر کی صبح کو ۴ بجے نیند کھلی۔ نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر ہارون شیخ صاحب کے ساتھ باہر نکلا۔ ہم لوگ قریب کے ایک پارک میں گئے اور وہاں دیر تک ٹہلتے رہے۔ صبح کے وقت ٹہلنا میری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔

میرے لیے صبح کے وقت ٹہلنا صرف ورزش نہیں ہے بلکہ وہ میرے لیے خدا کی یاد کا ایک لمحہ ہے۔ قرآن میں ہے: انّ قر آن الفجر کان مشهودا (بنی اسرائیل ۷۸) لوگ سمجھتے ہیں کہ اس آیت سے مراد صرف صبح کے وقت نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ بلاشبہہ آیت کا ابتدائی مفہوم یہی ہے۔ مگر حدیث میں آیا ہے کہ لكل آية منها ظهر و بطن۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک ابتدائی مفہوم ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ایک تو سیعی مفہوم۔

اس اعتبار سے صبح سویرے کھلے آسمان اور تازہ ہوا اور قدرتی مناظر کے درمیان ٹہلنا بھی اسی قسم کا ایک تجربہ ہے۔ اس قیمتی وقت میں ایک مومن جب ٹہلتا ہے تو وہ گویا کتاب معرفت کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت يتفكرون فی خلق السموات والارض کا تجربہ کر رہا ہوتا ہے۔ ایک "قرآن مشہود" وہ ہے جس کا تجربہ مومن کو مسجد کے اندر ہوتا ہے، اور دوسرا قرآن مشہود' وہ ہے جس کا تجربہ مومن کو مسجد کے باہر ہوتا ہے۔

میں ہارون شیخ صاحب کے دفتر میں تھا۔ وہاں ایک وکیل صاحب ملاقات کے لیے آئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page