Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

انہوں نے کہا کہ میں دور سے آیا ہوں اور مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ اس کے بعد وہ نان اسٹاپ بولنے لگے۔ خاص بات یہ تھی کہ ان کی اکثر باتیں، میرے نزدیک، غیر منطقی (illogical) تھیں مگر وہ پورے یقین کے ساتھ اپنی باتوں کو دہراتے رہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ اسلام میں یکشنبہ سے پنجشنبہ تک کے ایام ہیں (یوم الاحد ، یوم الاثنين ، یوم الثلاثاء ، یوم الأربعاء ، یوم الخميس ) جمعہ کا دن سرے سے اسلام میں موجود نہیں۔ میں نے قرآن کی سورہ الجمعہ کی یہ آیت پڑھی: اذا نودی للصلوة من يوم الجمعة ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد کوئی ہفتہ واری دن نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صرف اجتماع کا دن ہے۔ وہ اس طرح کی بے ربط باتیں دیر تک کرتے رہے ۔ آخر میں وہ یہ کہہ کر چلے گئے کہ آپ نے مجھے گوارا کیا، اس کا شکریہ ! Thank you, very much for tolerating me. ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر 9 ، پارہ نمبر 11 ، آیت نمبر ۱۰۷ میں مدینہ کی ایک عمارت (مسجد ضرار) کو ڈھانے کا ذکر ہے۔ اس کو لے کر کچھ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹاور کو توڑنا قرآن کے مطابق، درست تھا۔ وہ اس طرح کہ ہم ان تینوں اعداد کو لیں۔ ہم سورہ توبہ کا نمبر 9 لیں اور پارہ کا نمبر 11 لیں اور آیت کا نمبر ۱۰۷لیں تو اس سے تین باتیں نکلتی ہیں۔ وہ یہ کہ نویں مہینہ کی 11 تاریخ کو ایک ایسی بلڈنگ ڈھائی جائے گی جس کی منزلیں ۱۰۷ ہوں گی۔ یعنی انہوں نے آیت نمبر ۱۰۷ سے ورلڈ ٹاور کی 7 + 10 منزلیں مراد لیں اور سورہ نمبر 9 سے یہ مطلب نکالا کہ نویں مہینہ کی گیارہویں تاریخ کو یہ واقعہ ہوگا۔ اس طرح گویا 11 ستمبر کو ورلڈ ٹاور کو ڈھانا قرآن کے بیان کے مطابق تھا۔

میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد استدلال ہے۔ ماضی میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ لوگ اعداد کے ذریعہ ایسی باتیں ثابت کرتے رہے ہیں جن کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ مثال کے طور پر ایران کے بہاء اللہ خاں نے اعلان کیا کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک ہزار سال پر نبوت کو بدل دیتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی نبوت کو ایک ہزار سال پورے ہو گئے ہیں اس لیے اب اس خدائی قانون کے مطابق ، ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page