Al-Risala · October 2005 · page

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

نبوت منسوخ ہوگئی اور اب میں اگلے ہزار سال کے لیے خدا کی طرف سے انسانیت کا گائڈ مقرر ہوا ہوں۔ اس بے بنیاد نظریہ کو انہوں نے قرآن کی اس آیت سے نکالا :

ثم يعرج اليه في يوم كان مقداره ألف سنة مما تعدون (السجدہ ۵)

بہاء اللہ خاں نے اس آیت سے ’’ہزار سال‘‘ کا لفظ لیا اور پھر اس کے ساتھ ایک خود ساختہ مفروضہ کو جوڑ کر ایک ایسا نظریہ نکال لیا جو قرآن کے سراسر خلاف تھا۔ یہی حال مذکورہ استدلال کا ہے۔ اس میں تین عدد کو لے کر اس کے ساتھ خود ساختہ طور پر ایک مفہوم وابستہ کر دیا گیا۔ اور پھر بے بنیاد طور پر ان اعداد کے حوالہ سے ایک ایسا مفہوم نکالا گیا جس کا قرآن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس قسم کا استدلال یقینی طور پر باطل ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہ علمی اعتبار سے اور نہ شرعی اعتبار سے۔ بمبئی کا یہ سفر مسٹر ہارون شیخ کی دعوت پر ہوا تھا۔ انہوں نے نیو بمبئی کے علاقہ میں دواؤں کی ایک فیکٹری کھولی ہے۔ اس فیکٹری کے افتتاح کے سلسلہ میں یہ سفر ہوا۔ ۱۹ نومبر ۲۰۰۴ کو ہم لوگ قافلہ کی صورت میں روانہ ہو کر نیو بمبئی پہنچے۔ یہاں سے ہم لوگوں کو فیکٹری لے جایا گیا۔ فیکٹری میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔

یہاں ایک نشست سوال و جواب کی تھی۔ ایک ہندو انجینئر نے کئی سوالات کئے ۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ انسان کی نجات صرف اسلام مذہب میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک مسلمان کی تقریر سنی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایک آیت کا ریفرنس دیا اور اس کا ٹرانسلیشن اس طرح بتایا :

If anyone desires a religion other than Islam, never will it be accepted of him and in the Hereafter he will be in the ramps of those who have lost. (3:85)

میں نے کہا کہ یہ کنفیوژن ترجمہ کی غلطی سے ہوا ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ مسلم اسپیکر نے کیا تو انہوں نے یہ کیا کہ آیت کے دوسرے الفاظ کا تو انگریزی ترجمہ کیا مگر انہوں نے اسلام کے لفظ کا ترجمہ نہیں کیا۔ اس آیت میں اسلام کا لفظ کسی مذہب کے نام کے طور پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے لغوی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page