سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
معنی میں ہے۔ اسلام کا لغوی مفہوم سرینڈر ہے۔ اگر مسلم اسپیکر اس کا ترجمہ سرینڈر کے لفظ سے کرتے تو آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔
مزید سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ خدا کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ سرینڈر یا سب مشن ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے ٹیسٹ (امتحان) کے لیے بنایا ہے۔ اسی ٹیسٹ کی مصلحت کی بنا پر خدا نے انسان کو پوری آزادی عطا فرمائی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ ممکن نہیں۔
یہ ٹیسٹ کس بات کا ہے۔ یہ ٹیسٹ اس بات کا ہے کہ انسان حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرے، وہ آزادی کے با وجود اپنے آپ کو بے آزاد کرلے۔ وہ آزادی کے با وجود اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دے۔ وہ اختیار رکھنے کے با وجود اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ یہی سرینڈر ہے، یعنی آزادی کے با وجود خدا کے آگے جھک جانا۔ خدا کا اصل مطلوب دین یہی آزادانہ سرینڈر ہے۔ جو شخص اس طرح آزاد ہوتے ہوئے خدا کے آگے سرینڈر کرے وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت کا انعام پائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے وہ موت کے بعد کی زندگی میں جہنم میں داخل ہوگا۔ قرآن اس سلسلے میں گویا گائڈ بک کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ آزادی کے با وجود سرینڈر کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن میں اس مطلوب زندگی کے بنیادی اصول بتا دیے گئے ہیں، اور حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
یہاں نیو بمبئی میں ایک اجتماع ہوا۔ جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے تجارت کے بارہ میں اسلام کا نظریہ بیان کیا۔ یہ تقریر موقع کی مناسبت سے کی گئی۔ اس تقریر کا خلاصہ اگلی سطروں میں درج کیا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تسعة أعشار الرزق في التجارة (رزق کا نوے فیصد حصہ تجارت میں ہے) provision lies in trade 90%۔ یہ کوئی مذہبی عقیدہ کی بات نہیں۔ یہ فطرت ایک اٹل اصول ہے۔ خدا نے جس تخلیقی نقشہ کے تحت اس دنیا کو بنایا ہے، اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues