God is making commerce His missionary.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
مطابق یہی ہونا ہے کہ معاشی وسائل کا بیشتر حصہ تجارت کے دائرہ میں رہے۔ یہ خالق کا مقرر کیا ہوا قانون ہے، اس کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
ایسی حالت میں وہ لوگ صرف اپنی بے خبری کا اعلان کر رہے ہیں جو یہ شکایت کریں کہ ملک کا سرکاری نظام ہمارے ساتھ تعصب برتتا ہے، وہ ہم کو سرکاری ملازمت نہیں دیتا۔ میں ذاتی طور پر اس شکایت کو بے بنیاد مانتا ہوں۔ تاہم بالفرض اگر وہ درست ہو تب بھی میں کہوں گا کہ کوئی سرکاری نظام صرف اتنا کر سکتا ہے کہ وہ ایک سے رزق کا دس فی صد حصہ چھین لے مگر خدائی نظام کے تحت رزق کا نوّے فیصد حصہ پھر بھی آپ کے لیے قابل حصول رہے۔ ایسی حالت میں شکایت اور احتجاج کی کیا ضرورت۔ پیغمبر اسلام کے ابتدائی ساتھیوں کو صحابہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا طرز فکر اور جن کا مزاج براہ راست پیغمبر کے ذریعہ بنا تھا۔ اس طرح ان لوگوں کے اندر جو صفات پیدا ہوئیں ان کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ معاشی معاملات میں کسی کی شکایت نہیں کرتے تھے بلکہ تجارت کے کھلے ہوئے میدان کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول خشکی اور تری میں تجارت کرتے تھے (إن الصحابة كانوا يتجرون في البر والبحر) :
Companions of the Prophet were trading in land and sea. پیغمبر اسلام کے بعد کے زمانہ میں اسلام کو جو عالمی توسیع حاصل ہوئی اس میں سب سے زیادہ اسی کا دخل تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی وفات کے بعد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ ان میں سے ہر ایک ون مین ٹو مشن (one man two mission) کا مصداق بن گیا۔ انہوں نے دعوت کو اپنا مقصد بنایا اور معاشی ضرورت کے لیے تجارت کو اپنا وسیلہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نصف صدی کے اندر تاریخ کا دھارا بدل گیا۔ درست طور پر کہا گیا ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے:
God is making commerce His missionary.
یہاں میں قرآن کا ایک حوالہ دوں گا جو اس سلسلہ میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ تاریخی واقعہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues