God is making commerce His missionary.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
جس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۶ میں آیا ہے۔ اس سورہ میں اس صورت حال کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے مکہ میں موجود تھی۔ مکہ میں مقامی طور پر معاشی وسائل موجود نہ تھے۔ چنانچہ مکہ کے قبیلہ قریش کے لوگ اس تجارت میں مشغول ہو گئے جس کو آج کل ایکسپورٹ اور امپورٹ کہا جاتا ہے۔
یہ لوگ تجارتی قافلہ کی صورت میں مکہ سے یمن کی طرف اور مکہ سے شام کی طرف اپنے اونٹوں کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ وہ اپنے مقامی سامان تجارت کو اونٹوں پر لاد کر لے جاتے اور ان کو یمن اور شام کے بازاروں میں فروخت کرتے اور پھر وہاں سے دوسرے سامان اونٹوں پر لے آتے اور مکہ اور اطراف مکہ میں ان کو بیچ کر نفع حاصل کرتے۔
امپورٹ اور ایکسپورٹ کا یہ کامیاب بزنس قدیم زمانہ میں کیسے ممکن ہوا۔ اس کے بارہ میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کے لیے پر امن سفر کے حالات پیدا کر دیئے ۔ چنانچہ قریش کے قافلے محفوظ طور پر باہر کے علاقوں میں جاتے اور دوبارہ محفوظ طور پر واپس آتے : God Almighty blessed the Quraysh with safe trade journeys. قرآن کے مطابق ، ایسا دو وجہوں سے ممکن ہوا۔ ایک تو یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا مرکز عبادت ( کعبہ ) مکہ میں تھا جس کی تولیت قریش کو حاصل تھی۔ عرب اور اطراف عرب کی قومیں حضرت ابراہیم کو مشترک طور پر اپنا مذہبی بزرگ مانتی تھیں۔ دوسری بات یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال غالباً ۵۷۰ میں یمن کے حاکم ابرہہ نے ۶۰ ہزار لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا مگر ابھی وہ مکہ کے باہر ہی تھا کہ ایک خدائی سزا کے تحت یہ پورا لشکر تباہ ہو گیا۔ ان دو واقعات کے نتیجہ میں مکہ کے قبیلہ قریش کو عرب میں اور عرب کے باہر عمومی طور پر عزت و احترام کا مقام حاصل ہو گیا۔ اس طرح ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ اپنی تجارت کے لیے وہ چیز پالیں جس کو محفوظ سفر (safe journey) کہا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں یہ تاریخ بہت زیادہ بڑے پیمانہ پر دہرائی گئی ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد جو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues