Al-Risala · October 2005 · page

God is making commerce His missionary.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

نئے حالات پیدا ہوئے ہیں اُس کے نتیجہ میں سارے انسانوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ دنیا کے تمام حصوں میں محفوظ اور تیز رفتار سفر کر سکیں۔ وہ جدید کمیونیکیشن کے ذریعہ ساری دنیا میں اپنی تجارت کا جال بچھا دیں۔ یہ امکان تمام انسانوں کے لیے کھلا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس نئے امکان میں سب سے کم حصہ اُن لوگوں کو ملا ہے جو اپنے آپ کو پر فخر طور پر پیغمبر عربی کی اُمت کہتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی منفی سوچ کی بنا پر ایک ایسی سرگرمی میں مبتلا ہو گئے جو خدائی اسکیم سے لڑنے کے ہم معنیٰ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جہاد کے نام پر اُس چیز میں مبتلا ہو گئے ہیں جس کو دنیا اسلامک ٹررزم کہتی ہے۔ ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنا، ہوائی جہازوں میں بم رکھ دینا، کاروں اور بسوں اور ٹرینوں میں بم رکھ کر سفر کو پر خطر بنانا، سڑکوں پر بارودی سرنگ بچھا کر مسافروں کے دل میں خوف پیدا کرنا، وغیرہ۔

یہ سب کام خدا کی اسکیم کے خلاف ہیں۔ خدا نے چاہا کہ وہ اپنے بندوں کے لیے محفوظ سفر کے راستے پوری طرح کھول دے۔ مگر مسلمان اپنی متشددانہ تحریکوں کے ذریعہ خدا کی اس اسکیم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ ان متشددانہ کارروائیوں میں براہ راست طور پر مسلمانوں کی ایک محدود تعداد ہی شامل ہوتی ہے۔ مگر اسلامی شریعت کے مطابق ، بقیہ مسلمان بھی اس سے بری الذمہ نہیں۔ اس لیے کہ بقیہ مسلمان ان واقعات کی مذمت کے لیے نہیں اُٹھے۔ ایسی حالت میں وہ شرعی اصول کے مطابق ، ان متشددانہ کارروائیوں میں بالواسطہ طور پر شریک قرار پائیں گے جن میں دوسرے مسلمان براہ راست طور پر شریک ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ مسلمان اگر ان واقعات کی مذمت کریں لیکن اسی کے ساتھ وہ اپنے بیان میں ’’اگر‘‘ اور ’’مگر‘‘ بھی جوڑ دیں تو ان کا بیان اُنہیں اس معاملہ میں بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوگا۔

بمبئی کے قیام میں انفرادی ملاقاتوں کے علاوہ بار بار چھوٹے اجتماعات ہوتے رہے۔ ایک اجتماع میں الرسالہ کے قارئین شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے جو باتیں کہیں اُن میں سے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page