Al-Risala · October 2005 · page

God is making commerce His missionary.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

ایک اجتماعی زندگی کی اہمیت کے بارے میں تھی۔

میں نے کہا کہ اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ دعوتی مشن بڑے پیمانے پر اجتماعیت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ مگر میرے تجربے کے مطابق اجتماعیت بے حد مشکل کام ہے۔ مسجد میں با جماعت نماز ادا کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن جماعتی طور پر اسلامی دعوت کا کام کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بار بار اختلاف اور شکایت کے مواقع آتے ہیں۔ جو لوگ شکایت کو عذر بنائیں وہ کبھی اجتماعی کام نہیں کرسکتے۔ مضبوط اجتماعیت کی واحد شرط یہ ہے کہ ذاتی عذر کو کبھی عذر نہ بنایا جائے۔ حتیٰ کہ اُس وقت بھی نہیں جب کہ آدمی کو یقین ہو کہ اس کی رائے عملی طور پر زیادہ درست ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ اُحد پیش آیا۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی یہ رائے تھی کہ مدینے میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوان صحابہ کی رائے کی بنا پر مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کا فیصلہ فرمایا۔ اس اختلاف کو لے کر عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی اجتماعیت سے الگ ہو گئے۔ یہ لوگ اسلام کی تاریخ میں منافقین کہے گئے۔ حالاں کہ تجربہ سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی رائے عملی اعتبار سے زیادہ درست تھی۔ چنانچہ بعد کو غزوہ خندق کے موقع پر اسی رائے کے مطابق عمل کیا گیا۔

بمبئی میں کچھ مسلم نوجوانوں نے ایک دعوتی ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Islamic Centre for Research & Awareness (ICRA)

اس ادارے کے ذمہ دار مسٹر سید جاوید (9821197534 :Tel) ہیں۔ ان لوگوں نے اس ادارے کے ساتھ ایک بک شاپ بھی کھولی ہے۔ جس میں الرسالہ اور دوسری اسلامی کتابیں موجود رہتی ہیں۔ اس ادارے میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے علاوہ کچھ نو مسلم بھی شریک تھے۔ یہاں میری ایک تقریر ہوئی۔

میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں دعوتی نقطہ نظر سے سب سے بڑا حادثہ یہ پیش آیا ہے کہ قومی شکایتوں کو لے کر مسلمان تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ ہندو، یہودی، عیسائی، امریکن،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page