God is making commerce His missionary.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
یورپین، سب کے سب مسلمانوں کو اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ اُن کو دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب لوگ مسلمانوں کے خلاف سازش میں مشغول ہیں۔ اس منفی سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ’’انسانیت عامہ‘‘ مسلمانوں کا کَنْسَرن نہ رہی۔
اسلام کی حقیقی تعلیمات ایک مومن کو انسان فرینڈلی بناتی ہیں۔ جس آدمی کا ذہن قرآن سے بنا ہو وہ دوسری قوموں کو رحمت و شفقت کی نظر سے دیکھے گاوہ یک طرفہ طور پر اُن کا خیر خواہ بنا رہے گا۔ اسی کا نام مثبت ذہن ہے۔ یہ مثبت ذہن جب مسلمانوں میں ہو تو اس کے نتیجے میں اُن کے اندر حوصلہ اور آفاقیت پیدا ہوگی۔ وہ ہر شعبے میں کامیاب رہیں گے۔ اسی کے ساتھ اُن کا یہ مثبت ذہن دعوت کے عمل کو تیز تر کرنے میں معاون بنے گا۔
۲۱ نومبر کو بمبئی سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ جناب ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ایر پورٹ پہنچا۔ ہارون شیخ صاحب بمبئی میں ایک اہم کام کر رہے ہیں۔ وہ پورے معنوں میں ’’وُن مین ٹوَمشن‘‘ کی مثال ہیں۔ وہ ذاتی بزنس کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن نکال رہے ہیں۔ اس انگریزی پرچے کا نام اسپرچول مسیح (Spiritual Message) ہے۔ اس کا پہلا شمارہ جون ۲۰۰۳ کو شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد پابندی سے وہ ہر مہینے شائع ہو رہا ہے۔ اس کا پتہ یہ ہے: The Spiritual Message, Andheri (East)
Mumbai-400099. India (Tel: 2834 1654)
بمبئی ایر پورٹ پہنچا تو وہاں حسب معمول بھیڑ دکھائی دی۔ انڈیا کے تمام ایر پورٹوں میں غالباً سب سے زیادہ بھیڑ بمبئی ایر پورٹ پر ہوتی ہے۔ بمبئی میں دوائر پورٹ الگ الگ ہیں۔ ایک مُلکی پرواز کے لیے اور دوسرا انٹرنیشنل پروازوں کے لیے۔ بمبئی کے جہازوں میں مسافروں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بمبئی سے لوگوں کے تجارتی تعلقات بہت زیادہ ہیں۔ آج کل ہوائی جہازوں میں سب سے زیادہ مسافر وہ لوگ ہوتے ہیں جو تجارت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تجارت کو ہر ملک میں غالب شعبے کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر چہ مسلمان جدید تجارتی سرگرمیوں میں نسبتاً بہت کم نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کے غیر حقیقی سیاسی ذوق نے اُن کو جدید تجارت کے میدان میں دوسروں سے پیچھے کر دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues