God is making commerce His missionary.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵، صفحہ ۱۷
بمبئی سے انڈین ایئر لائنز کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ جہاز کے اندر مطالعے کے لیے کئی اخبارات موجود تھے۔ ان میں سے ایک بمبئی کا اخبار ۲۱ نومبر کا مڈڈے (Mid Day) کا شمارہ ۲۱ نومبر ۲۰۰۴ تھا۔ اس اخبار میں ڈاکٹر اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال کا انٹرویو چھپا تھا، جو مسٹر دانش خاں نے ان سے لیا تھا:
سوال: پاکستان میں اس وقت جو صورت حال ہے اس پر اقبال کا ردعمل کیا ہوتا۔ جواب: موجودہ پاکستان کے بارے میں اقبال کا ردعمل وہی ہوتا جو موجودہ انڈیا کے بارہ میں گاندھی کا ہوتا۔ میں بابری مسجد توڑے جانے اور گجرات کے فساد کے حوالے سے یہ بات کہہ رہا ہوں۔ Q. How would have Iqbal reacted to the present state of affairs in Pakistan? A. The same as Mahatma Gandhi would have reacted to the present state of affairs in India. I am referring to the demolition of the Babari Masjid and the massacre of Muslims in the state of Gujrat. میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواب صرف جزئی طور پر صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کی مسلم اقلیت کو جو حقوق اور جو مواقع ملے وہ اس سے بہت زیادہ تھے جو پاکستان کی ہندو اقلیت کو ملے۔ انڈیا میں بابری مسجد اور گجرات جیسے حادثے کی حیثیت استثناء کی ہے۔ جب کہ پاکستان کا حال یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان تقریباً روزانہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہورہے ہیں۔ میرے نزدیک بابری مسجد کے گرانے سے بھی زیادہ سنگین واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں مسجدوں میں گھس کر نمازیوں کو بم اور گن کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انڈیا کے مسلمان مسلسل ترقی کر رہے ہیں جب کہ پاکستان کے ہندوؤں کے لیے ترقی کے مواقع مسدود ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ انڈیا کے مسلمانوں کا تقابل پاکستان کے ہندوؤں سے کیا جائے۔ انڈیا کے مسلمانوں کا تقابل پاکستان کے مسلمانوں سے کرنا ایک مغالطہ انگیز بات ہے، وہ اس معاملہ میں صحیح تقابل نہیں۔
۲۱ نومبر ۲۰۰۴ کی شام کو ساڑھے سات بجے جہاز دہلی ائر پورٹ پر اترا۔ پورا جہاز بھرا ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues