دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
اس ادارے کی دعوت پر بمبئی کا سفر ہوا۔ ۹ جون ۲۰۰۵ کو دہلی سے روانگی ہوئی اور ۱۲ جون ۲۰۰۵ کو بمبئی سے واپس آیا۔ یہ ایک دعوتی اور تربیتی سفر تھا۔
اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ گھر سے ائیر پورٹ تک ایک صاحب مجھے پہنچانے کے لیے گیے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ خدا کی معرفت کا طریقہ کیا ہے اُن کا خیال تھا کہ صوفیانہ اور اوراد و وظائف اور تبلیغی چلّے معرفتِ خداوندی کا ذریعہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ان چیزوں کا معرفتِ خداوندی سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا کی معرفت نہ کسی قسم کے تکرار الفاظ سے حاصل ہوتی ہے اور نہ وہ کسی نقل و حرکت کا نتیجہ ہے۔ معرفت کے حصول کا ذریعہ قرآن کے الفاظ میں تفکر اور تدبر ہے۔ تفکر اور تدبر کیا ہے۔ تفکر اور تدبر سوچنے کے عمل کا نام ہے۔ معرفت دراصل ذہنی سرگرمی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے نہ کہ جسمانی ورزش کے ذریعہ۔ خدا نے انسان کو لامحدود ذہنی صلاحیت دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک سو ملین بلین بلین پارٹیکل ہیں۔ یعنی انسان کے دماغ میں سوچنے کی جو طاقت ہے وہ لامحدود ہے۔ اس ذہنی صلاحیت کو استعمال کر کے آدمی کو آفاق و انفس میں خدا کی نشانیوں کو دریافت کرنا ہے۔ یہی ذہنی عمل معرفتِ الہی کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پہاڑوں کے علم سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت کا ترجمہ یہ ہے:
”کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اُس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے ۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ رنگوں کے ٹکڑے ہیں۔ اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اُس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ (فاطر: ۲۸-۲۷)
قرآن کی اس آیت میں پہاڑ جیسی چیزوں کا ذکر ہے۔ اور پھر فرمایا کہ : اللہ سے صرف علم والے ڈرتے ہیں۔ اس سیاق میں واضح طور پر علم سے مراد پانی، نباتات اور پہاڑ کا علم ہے۔ یعنی ان
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues