دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
چیزوں کے علم سے خدا کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی قرآنی ’’سلوک‘‘ ہے اور یہی معرفت ربانی کا اصل ذریعہ ہے۔
میرے سفروں میں اکثر کوئی مددگار میرے ساتھ ہوتا ہے۔ اس بار میرا یہ سفر تنہا تھا۔ کوئی مددگار میرے ساتھ نہ تھا۔ میں سوچتا تھا کہ راستہ میں کوئی مشکل نہ پیش آئے مگر یہاں عجیب معاملہ ہوا۔ ایر پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایر کمپنی کی ایک خاتون کارکن نے آگے بڑھ کر مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کہاں جانا ہے اور پھر میرا بیگ اور میرا ٹکٹ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد ایر پورٹ کے تمام مراحل اسی خاتون نے طے کرائے۔ انتظار گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی تو انہوں نے ایک خصوصی کرسی کا انتظام کر کے مجھے بٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ یہاں بیٹھیے، جب جہاز کا وقت ہو گا تو میں خود آ کر آپ کو لے جاؤں گی۔
میرا تجربہ ہے کہ بڑھاپا ایک اعتبار سے کمزوری ہے مگر وہ دوسرے اعتبار سے ایک نعمت ہے۔ نوجوان آدمی جب ایک بوڑھے انسان کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے روپ میں اپنے باپ یا اپنے دادا کو یاد کرتا ہے، وہ اپنے خاندانی بزرگ سے اُس کو سوسبیٹ کر لیتا ہے۔ چنانچہ وہ ایسے کسی آدمی کی خدمت کر کے ایک قلبی سکون حاصل کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے بزرگ کی خدمت کر رہا ہوں ۔ یہی تجربہ مجھے اجتماعات میں بھی ہوا۔ دو سال پہلے نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر کے ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ تعلیم یافتہ ہندو یہاں کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔ حاضرین میں سے ایک مسلمان نے بتایا کہ ان کے قریب کی سیٹ پر ایک ہندو پروفیسر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری تقریر سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مسلمان نے اُن کے رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا کی بزرگانہ باتوں کو سُن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میرے دادا مجھ سے خطاب کر رہے ہیں۔ دہلی سے بمبئی کا سفر جیٹ ایرویز کی فلائٹ سے ہوا۔ فلائٹ پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ یہ بیش تر تاجر لوگ تھے جو اپنے تجارتی مقاصد کے لیے بمبئی جا رہے تھے۔ راستہ میں مختلف اخبارات اور میگزین مطالعے کے لیے موجود تھے۔ جیٹ ایر کی فلائٹ میگزین (Jet Wings) کے شمارہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues