دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
جون ۲۰۰۵ء میں بتایا گیا تھا کہ جیٹ ایرویز ہر دن 270 فلائٹ 72 مقامات کے لیے روانہ کرتی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے اس میں درج تھا کہ پانچ منٹ کے اندر ہم انڈیا کے کسی نہ کسی مقام کو مربوط کرتے ہیں:
میں نے سوچا کہ ربط کا اس سے بھی بڑا ایک واقعہ ہر لمحہ ہوتا ہے، مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔ اور وہ ہے خدا اور اس کے بندے کے درمیان غیر مرئی سطح پر ہر لمحہ ربط قائم ہونا۔ لوگوں کو مادی سفر کا پتہ ہے لیکن لوگوں کو روحانی سفر کا پتہ نہیں۔
جیٹ ونگس کے ایک صفحے پر گوا کے ایک ہوٹل کا اشتہار تھا۔ اس اشتہار کے الفاظ یہ تھے: ایک ایسی جنت کا تصور کیجئے جہاں ہر قسم کے آرام اور سہولتیں موجود ہوں جن کا آپ نے کبھی خواب دیکھا ہے۔ ایسی جنت کے لطف کے لیے آپ گووا میں ہمارے ہوٹل میں آئیے یہاں آپ کو صحت، خوشی اور سکون ہر چیز ملے گی:
میں اس قسم کے ’’جنتی ہوٹلوں‘‘ میں باربار ٹھہرا ہوں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق کوئی بھی ہوٹل ’’جنتی ہوٹل‘‘ نہیں ۔ اس قسم کے کسی ہوٹل میں جب آپ داخل ہوں تو وقتی طور پر بظاہر وہ آپ کو اچھا لگے گا، لیکن اگلے ہی دن آپ بورڈم کا شکار ہو جائیں گے۔ وہاں کے بظاہر تعیشاتی انتظامات آپ کو مصیبت معلوم ہونے لگیں گے۔ جلد ہی آپ اس سے بے رغبت ہو کر اس طرح واپس آئیں گے کہ یہ جنتی ہوٹل آپ کے لیے ایک تلخ یاد کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ اس قسم کے ہوٹل میں صرف اُن لوگوں کو خوشی مل سکتی ہے جو بظاہر تو انسان ہوں مگر ذہنی اعتبار سے وہ بھیڑ بکری کی سطح پر زندگی گزارتے ہوں ۔ جہاز ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد بمبئی پہنچا۔ میرے پاس کوئی لگیج نہ تھا۔ اس لیے میں فوراً ہی ایر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues