دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
پورٹ کے با آگیا۔ یہاں کئی لوگ موجود تھے۔ مسٹر ہارون شیخ، مسٹر محمد حنیف ، ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر اویس، مسٹر سید جاوید۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر مسٹر ہارون شیخ کے آفس میں پہنچا۔ یہ جگہ ائیرپورٹ سے بہت قریب ہے۔ یہاں کئی لوگ اکٹھا ہو گئے ۔ ظہر کی نماز تک یہیں قیام رہا۔
لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی ۔ ایک صاحب نے کہا کہ پہلے زمانہ میں آدمی نا ہموار راستوں پر اونٹ اور خچر سے سفر کرتا تھا۔ اس لیے پہلے زمانہ میں شکر کی کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ اب لوگ موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کرتے ہیں اس لیے اب شکر کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ یہ ناواقفیت کی بات ہے۔ شکر بالفاظ دیگر ربانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ خداوند برتر کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ عبدیت کو دریافت کرنا ہے۔ جو لوگ اس احساس عبدیت سے خالی ہوں اُن کو نہ پچھلے زمانہ میں ربانی کیفیت کا تجربہ ہو سکتا تھا اور نہ وہ موجودہ زمانہ میں اس اعلیٰ کیفیت کا تجربہ کر سکتے تھے، جس کو شکر کہا جاتا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ دنیا کی نعمتوں کو کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ اس سے تو خدا کے مُنعم ہونے کا تصور پیدا ہوتا ہے اور آدمی خدا کا شاکر بن جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ نعمتوں پر شکر کا یہ بہت ناقص تصور ہے۔ شکر کا اعلیٰ تصور یہ ہے کہ آپ سورج اور چاند کو دیکھ کر شکر گذار بندے بنیں ۔ دریا کی روانی اور ہوا کے جھونکوں میں آپ کو شکر خداوندی کا پیغام پہنچ رہا ہو۔ درخت کی ہر ہریالی اور زمین کی گردش آپ کے اندر شکر کا طوفان برپا کر دے۔ حقیقی شکر کا ماخذ ذاتی آرام نہیں، بلکہ قدرت خداوندی کی پھیلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ یہ بات قرآن کے ہر صفحے پر موجود ہے۔
ایک صاحب اقبال کے بہت پرستار تھے۔ میں نے کہا کہ اقبال کی شاعری غیر حقیقت پسندانہ جذباتیت پیدا کرتی ہے۔ جس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مثلاً اقبال کا ایک شعر ہے: مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ یہ شعر آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا کرتا ہے جس کو فارسی میں "پدرم سلطان بود" کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues