Al-Risala · October 2005 · page

دوسرا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

یعنی آباؤ اجداد کی گذشتہ عظمت پر فخر کرنا۔ حقیقت یہ تھی کہ سابق مسلم علماء کی کتابوں کے جو غیر مطبوعہ مسودات یورپ کے کتب خانوں میں رکھے ہوئے ہیں، اب وہ صرف تاریخی میوزیم کی چیز ہیں۔ اب زمانہ اتنا ہی آگے بڑھ چکا ہے جتنا کہ قدیم غیر مطبوعہ کتابوں کے مقابلہ میں جدید طرز کی مطبوعہ اور مجلد کتاب۔ اقبال کو چاہیے تھا کہ وہ مسلمانوں کے اندر حال اور مستقبل کا شعور پیدا کرتے مگر انہوں نے مسلمانوں کو فخر ماضی کی مریضانہ نفسیات میں مبتلا کر کے چھوڑ دیا۔

مزید عبرت ناک بات یہ ہے کہ اقبال نے یورپ کی لائبریریوں میں اپنے آبا کی کتابوں کو دیکھا تو اُن کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، مگر اُسی یورپ میں لاکھوں لوگ سچائی سے محروم ہو کر جہنم کی طرف جا رہے تھے لیکن اقبال اس اندوہ ناک صورت حال پر نہیں تڑپے اور نہ انہوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ تم یورپی قوموں کو جنت کا راستہ دکھا کر دعوت الی اللہ کا اہم ترین فریضہ ادا کرو اور پھر آخرت میں اللہ کے بڑے بڑے انعامات حاصل کرو۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ عرب دنیا میں جب مغربی استعمار کا دور آیا اور یہود فلسطین کی سرزمین میں غالب ہو گئے تو سارے عرب ، عربی شاعر کا یہ شعر دھوم کے ساتھ پڑھنے لگے : هَاتِ صلاح الدين ثانيةً فينا جَدّدَى حِطّين أو شبه حطّینا یہ شعر گوئی یا اس قسم کی خطابت بے معنی جوش کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صلاح الدین (وفات ١١٩٣ء) دوبارہ جدید تاریخ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دوبارہ حطین جیسے معرکے برپا کیے۔ مگر یہ سراسر بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ مثلاً سلطان ٹیپو (وفات ۱۷۹۹ء) بہادری کے اعتبار سے صلاح الدین سے کم نہ تھے۔ یاسر عرفات بھی اسی قسم کی ایک عسکری مثال تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمانہ علم کا زمانہ ہے نہ کہ تلوار کا زمانہ۔ مسلم رہنماؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ علم کے دور میں تلوار کے ذریعہ جیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالاں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔

بمبئی میں جوگیش وری کے علاقے میں ایک نو تعمیر فلیٹ چند دن کے لیے حاصل کیا گیا تھا، میرا قیام اسی فلیٹ میں رہا۔ ہارون شیخ صاحب کے آفس سے روانہ ہو کر ہم لوگ یہاں آگئے۔ یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page