Al-Risala · October 2005 · page

دوسرا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

حلقہ الرسالہ کے کئی لوگ برابر میرے ساتھ مقیم رہے۔ اُن سے برابر گفتگو جاری رہی۔ ان لوگوں نے عام رواج کے مطابق دعوتی کھانے کا انتظام کیا تھا۔ میں نے ان دعوتی کھانوں میں شرکت نہیں کی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اس نوابی تہذیب میں کب تک جیتے رہیں گے۔ جو لذیذ اور دعوتی کھانے مسلمانوں میں رائج ہیں وہ دراصل مسلمانوں کے پچھڑے پن کی علامت ہیں۔ الرسالہ کے ایک قاری اپنے گھر سے سادہ کھانا لاتے رہے اور میں نے بمبئی کے قیام کے دوران اسی کھانے کو ترجیح دی۔ جوگیش وری کا یہ فلیٹ عملاً ایک قسم کی تربیت گاہ بن گیا۔ یہاں رات دن لوگ آتے رہے اور ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔

ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانیں۔ مثال کے طور پر آپ لوگ اکثر ڈیبیٹ (debate) کو دعوت کہتے ہیں۔ حالاں کہ ڈیبیٹ اور دعوت میں بنیادی فرق ہے۔ ڈیبیٹ اپنے مقابل میں دوسرے کو زیر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ڈیبیٹ دراصل ایک قسم کی تقریری پہلوانی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دعوت ایک دردمندانہ عمل ہے۔ دعوت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو دل سوزی کے انداز میں سچائی کا پیغام پہنچایا جائے تا کہ وہ اُسے اپنے دل کی بات سمجھے اور اُس کو قبول کرلے۔ ڈیبیٹ (مناظرہ) اور دعوت دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈیبیٹ سے ڈیبیٹر کے اندر فخر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف فریق ثانی کے اندر وہ نفرت کا جنگل اُگاتا ہے۔ ڈیبیٹ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دعوت کا قاتل ہے۔ دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دعوت دراصل محبت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ داعی کے اندر احساسِ ذمے داری کو جگاتی ہے اور دوسری طرف مدعو کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر نظر ثانی کرے اور سچائی کا متلاشی بن جائے، یہاں تک کہ سچائی کو اپنا کر وہ خدا کے ان بندوں میں شامل ہو جائے جن سے خدا قیامت میں راضی ہوگا۔ ایک صاحب نے معترضین اسلام کا سروے کر کے ساٹھ سوالات بنائے تھے۔ انہوں نے یہ سوالات مجھ کو لکھ کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان سوالات کا جواب تیار کردیں تو ہم ان کو شائع

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page