دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
کر کے بڑی تعداد میں پھیلائیں گے تا کہ اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں۔ یہ سوالات ہمیشہ سنی سنائی باتوں پر ہوتے ہیں۔ وہ کسی گہری سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سوال کا جواب دیتے رہتے ہیں مگر اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم نہیں ہوتیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر آرٹ آف تھنکنگ پیدا کی جائے۔ لوگوں کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنایا جائے۔ اس کے بعد لوگ خود ہی ہر سوال کا جواب پالیں گے۔
میں پارک میں ٹہل رہا تھا، یہاں ایک صاحب مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو ٹی وی پر دیکھا تھا اس سے میں نے آپ کو پہچانا۔ انہوں نے اپنا نام ابو سفیان بتایا۔ وہ الرسالہ کے قاری تھے اور کچھ کتابیں بھی پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ کے مطالعے سے مجھ کو بہت فائدہ ہوا۔ خاص طور پر اس کی وجہ سے میرے اندر حقیقت پسندی آئی۔ ایک اور صاحب (مسٹر خالد) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۹۳ء میں جب آپ بمبئی آئے تھے اور یہاں آپ نے بابری مسجد کے مسئلے پر تقریر کی تھی، اُس وقت اس کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں میں بھی شریک تھا۔ اُس وقت میں آپ کو دشمنوں کا آدمی سمجھتا تھا۔ مگر اُس کے بعد میں نے الرسالہ اور آپ کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا یہاں تک کہ میری فکر پوری طرح بدل گئی۔ اب میں آپ سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور آپ کے مشن سے جڑ کر کام کرنا چاہتا ہوں۔
ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ آپ اکثر ایڈ جسٹمنٹ کی باتیں کرتے ہیں یہ تو بزدلی ہے۔ میں نے کہا کہ ایڈ جسٹمنٹ بزدلی نہیں بلکہ وہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ میں نے کہا کہ ایڈ جسٹمنٹ تو ہر آدمی ہر روز کرتا ہے ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر کوئی فیملی نہیں چل سکتی ، ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر آپ کوئی جاب نہیں کر سکتے، ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر آپ بزنس میں کامیاب نہیں ہو سکتے، ایڈ جسٹمنٹ کے بغیر آپ سوسائٹی میں عافیت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
میں نے کہا کہ آپ اور دوسرے لوگ اپنی ذاتی زندگی میں عین یہی طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر جب معاملہ مسلم اور نان مسلم یا مسلمان اور ہندو کا ہو تو آپ لوگ اُس کو قومی پرستی (prestige)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues